نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 566

نسیمِ دعوت — Page 92

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۹۲ رساله تحفة الندوه بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي بہر دم مددی از خدا می آید کجاست اہل بصیرت که چشم بکشاید ۲۳ تحفة الندوه آج ۲ راکتو بر ۱۹۰۲ء کو ایک اشتہار مجھے ملا جو حافظ محمد یوسف پنشنر کی طرف سے میرے نام پر شائع ہوا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ میں ایک دفعہ زبانی اس بات کا اقرار کر چکا ہوں کہ جن لوگوں نے نبی یا رسول یا اور کوئی مامور من اللہ ہونے کا دعوی کیا تو وہ لوگ ایسے افترا کے ساتھ جس سے لوگوں کو گمراہ کرنا مقصود تھا تمیس برس تک ( جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایام بعثت کا کامل زمانہ ہے ) زندہ رہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ اور پھر حافظ صاحب اسی اشتہار میں لکھتے ہیں کہ ان کے اس قول کی تائید میں ان کے ایک دوست ابو اسحاق محمد دین نام نے قطع الوتین نام ایک رسالہ بھی لکھا تھا جس میں مدعیان کا ذب کے نام معہ مدت دعوئی تاریخی کتابوں کے حوالہ سے درج ہیں ۔ ماحصل اس تمام تقریر کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ حافظ صاحب کو قرآن شریف کی آیت لو تقول پر ایمان نہیں ہے اور نہ لانا چاہتے ہیں اور نہ آیت وَإِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ، پر ان کا عقیدہ ہے اور نہ ایسا عقیدہ رکھنا چاہتے ہیں بلکہ رساله قطع الوتین قرآن شریف کی ان آیتوں کو رد کر چکا ہے اور ان کے نزدیک گویا یہ تمام آیتیں جیسا کہ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَری کے اور جیسا کہ آیت اِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ ۔ اور جیسا کہ آیت فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ " یہ سب منسوخ شدہ ہیں جو اب واجب العمل نہیں اور پھر ان آیتوں میں سے وہ بھی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ نبی بعض باتیں ا المؤمن : ۲۹ طه : ۶۲ النحل : ١١ البقرة : ٦٠