نجم الہدیٰ — Page 54
روحانی خزائن جلد ۱۴ ولد نجم الهدى سَبُّوا وَمَا أَدْرِي لأَيِّ جَرِيمَةٍ انہوں نے گالیاں دیں اور میں نہیں جانتا کیوں سَبُّوا أَنَعْصِيَ الْحِبَّ أَوْ نَتَجَنَّبُ دیں کیا ہم اس دوست کی مخالفت کریں یا اُس سے کنارہ کریں ۔ میں نے قسم کھائی ہے کہ میں أَقْسَمْتُ أَنِّي لَنْ أُفَارِقَهُ وَلَوْ اس سے علیحدہ نہیں ہوں گا اگرچہ شیر یا بھیڑیا مَرَّقَتْ أُسُودٌ جُمَّتِي أَوْ أَذُوبُ مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔ لوگوں کی ریاستیں ان ذَهَبَتْ رِيَاسَاتُ الأُنَاسِ بِمَوْتِهِمُ کے مرنے کے ساتھ جاتی رہیں اور ہمارے لئے وَلَنَا رِيَاسَةُ خُلَّةٍ لَا تَذْهَبُ دوستی کی وہ ریاست ہے جو قابل زوال نہیں ۔ وکذالک كنت قد انقطعت من اور اسی طرح میں لوگوں سے منقطع ہو چکا الناس، وعكفت على الله فارغًا من تھا ۔ اور دنیوی صلح اور جنگ سے فارغ ہو کر الصلح والعماس، وكنت أعلم وأنا خدا تعالیٰ کی طرف جھک گیا تھا اور میں ابھی حدث أن الله ما خلقني إلا لأمر نوجوان تھا کہ اس بات کو جانتا تھا کہ خدا تعالیٰ عظيم، وكانت قریحتی تبغی نے مجھے ایک امر عظیم کیلئے پیدا کیا ہے اور میری الارتقاء وقرب رب كريم طبیعت ترقی اور قرب رب العالمین کو چاہتی تھی۔ وكان تبر جوهرى يبرق في عرق اور میری طبیعت کا سونا خاک کی جڑ میں چمک الثرى، من غير أن يستثار رہا تھا بغیر اس کے کہ وہ کھود کر نکالا جائے دشنام دادند حیرانم که جرم من چیست آیا خلاف آن دوست بکنیم یا از وی رو بگردانیم ۔ سوگند خورده ام نه هرگز از وی جدا نخواهم شد اگر چه شیر و گرگ مرا پاره پاره بکنند - ریاست مردم بعد از مرگ فنامی پزیر دولے ریاست دوستی ما را ابد از وال نیست۔ همچنین از مردم بریده و از آشتی و استیز کنار جسته همگی رو بخدا آورده بودم و هنوز جوان بودم که می فهمیدم خدا مرا برائے کاری بزرگ خلق فرموده است - نهادمن نزد یکی پروردگار جهان و ترقی را آرزو داشت و زر جوهر من در تهه خاک می درخشید بغیر آنکه کندیده و برون داده شود و