نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 550

نجم الہدیٰ — Page 51

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۵۱ نجم الهدى والإقبال، وكانت جبلتي خُلقت پر ہیز کرتا تھا اور میری طبیعت کچھ ایسی واقع تھی على حب الاستتار، وكنت مزُورًا کہ میں پوشیدہ رہنے کو بہت چاہتا تھا اور میں ملنے والوں سے تنگ آجاتا تھا اور کوفتہ خاطر ہوتا عن الزوّار ، حتى يئس أبى منى تھا یہاں تک کہ میرا باپ مجھ سے نو مید ہو گیا وحسبني كالطارق الممتار۔ وقال اور سمجھا کہ یہ ہم میں ایک شب باش مہمان کی رجل ضرى بالخلوة وليس مخالط طرح ہے جو صرف روٹی کھانے کا شریک ہوتا ہے اور گمان کیا کہ یہ شخص خلوت کا عادی ہے الناس رحب الدار ۔ فكان يلومني اور لوگوں سے وسیع گھر کے ساتھ میل جول عليه كمؤدب مغضب مرهف رکھنے والا نہیں ۔ سو وہ ہمیشہ مجھے اس عادت پر الشفار، وكان يوصینی لدنیای غضب سے اور تیز کاردوں سے ملامت کرتا سرا وجهرا وفي الليل والنهار ، اور مجھے دن رات اور ظاہر اور در پردہ دنیا کی ترقی کے لئے نصیحت کیا کرتا تھا اور دنیا کی وكان يجذبني إلى زخارفها وقلبي آرائشوں کی طرف رغبت دیتا تھا اور میرا دل يجذب إلى الله القهار۔ وكذالک خدا کی طرف کھنا جار ہا تھا۔ اور ایساہی میرا بھائی تلقاني أخى و كان يُضاهي أبي مجھے پیش آیا اور وہ ان باتوں میں میرے باپ في هذه الأطوار، فتوفهــمــا الله سے مشابہ تھا۔ پس خدا نے ان دونوں کو از بس خواهان بودم ـ و از بیننده ها خیلی ملالت می کشیدم تا آنکه پدرم از من نومید شد و مرا از طفیلیان مفت خور می پنداشت و دید که این کس خو گرفته تنهائی است و با مردم خانه آمیز گاری ندارد - نا چار بر این و تیره مرا چون آموزگار خشم ناک نکوهش می فرمود و کارد زبان را بر من تیز می کرد و روز و شب ۱۰ و نهان و آشکار برائے حصول دنیا پند داندرز می داد و بسوئی آرائش و پیرائش دنیا مرا بزور مے کشید ۔ ولی دل من به کشش تمام میل بسوئے خدائے لگا نہ می آورد و همچنیں برادر بزرگ با من رفتار می نمود داد در این شیوہ ہا بر پیئے پدر قدم می زد آخر خدا هر دو را در جوار رحمت خود جائے بداد