نجم الہدیٰ — Page 46
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۶ نجم الهدى ولا يفارقها فى زمن أنوار الآيات اور کسی زمانہ میں نشانوں کے نور اُس سے علیحدہ نہیں ہوتے اور ان سے کوئی شخص انکار نہیں کر ولا ينكرها إلَّا الذي رُبِّي في شر سکتا بجز اس شخص کے کہ جس نے بدی کی گود میں جحر ، ونشأ في أخبث نشاء۔ وإنه پرورش پائی ہو اور نہایت خبیث کیفیت کے جاء بدين لو نزعنا عنه كل برهان نشو و نما میں بڑھا ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ونری نفس تعليمه بعين إمعان، اليسا دین لائے کہ اگر ہم تمام براہین اور دلائل اس سے الگ کر دیں اور اُس کی نفس تعلیم کو غور کی لنظرنا تلألأ الحق في صورته | نظر سے دیکھیں تو اس کی سادہ اور روشن صورت الساذجة المنيرة، من غير احتیاج میں سچائی کو چمکتے ہوئے دیکھیں گے بجز اس إلى حلل الحجج والأدلة۔ ووالله ما حاجت کے کہ دلائل اور براہین کا اس کو لباس منع الناس أن يقبلوا الإسلام إلا داء پہناویں اور بخدا لوگوں کو اسلام کے قبول کرنے سے کسی چیز نے بجز اس کے منع نہیں دخيل من الكبر والتعصب والأود کیا کہ ان کے اندر ایک چھپی ہوئی بیماری تکبر والفساد، وغلبة البخل والحقد اور تعصب اور بخل اور قومی حب اور عناد کی تھی وحب القوم والعناد وما بعدهم اور ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں اور خدا کی اُن چهره بیچ زمانی از نور نشانها خالی نمانده و بر این امر انکار نتواند بیار و الا کسے کہ در کنار بدی پرورده و در ناپا کی شگرف بالیدگی یافته باشد - آنحضرت ( صلی اللہ علیہ وسلم ) دینے آو آورده که صرف نظر از همه دلائل و براہین اگر نگاهی در اگر نگاهی در نفس تعلیمش میکنیم در چه ساده و روشنش راستی را درخشان می بینیم و هیچ حاجت نداریم روی دلآرام وی را از دلائل مشاطگی نمائیم - خدا آگاه است که از قبول اسلام مردم را باز نداشته است الا مرض تكبر و تعصب و عنا دو حب قوم که در نهادشان جا گرفته که آن را پنهان می کنند ۔