نجم الہدیٰ — Page 35
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۵ نجم الهدى ويوصل إلى منزل القرب والرضاء اور یہ کہ قرب اور رضا اور معیت اور فنا اور محویت والمعية والفناء والذوبان والمحوية كے مقام اُن کو عطا ہوں یعنی وہ مقام جس میں أعنى إلى مقام ينعدم فيه أثر الوجود وجود اور اختیار کا نشان باقی نہیں رہتا اور خدا والاختيار، ويبقى الله وحده كما هو اکیلا باقی رہ جاتا ہے جیسا کہ وہ اس عالم کے فنا يبقى بعد فناء هذا العالم بذاته القهار۔ کے بعد اپنی ذات قھار کے ساتھ باقی رہے گا۔ فهذه آخر المقامات للسالكين | والسالكات، وإليه تنتهى مطايا الرياضات، وفيه يختتم سلوك پس یہ سالکوں کے لئے کیا مرد اور کیا عورت آخری مقام ہے اور ریاضتوں کے تمام مرکب اسی پر جا کر ٹھہر جاتے ہیں اور اسی میں اولیاء کے ولایتوں کے سلوک ختم ہوتے ہیں۔ اور الولايات۔ وهو المراد من الاستقامة وہ استقامت جس کا ذکر سورۃ فاتحہ کی دعا میں في دعاء سورة الفاتحة، وكل ما يتضرم | ہے اس سے مراد یہی مرتبہ سلوک ہے۔ اور من أهواء النفس الأمارة فتذوب في نفس امارہ کی جس قدر ہوا و ہوس بھڑکتی ہے وہ هذا المقام بحكم الله ذي الجبروت اسی مقام میں خدائے ذوالجبروت والعزت والعزة، فتفتح البلدة كلها كے حكم سے گداز ہوتی ہے۔ پس تمام شہر در منزل قرب و رضا و معیت وفنا و گدازش و محویت بار به بخشد و آں مقامی است که آنجا از وجود و اختیار نامی نماند و آن خدائے لگا نہ باقی می باشد همچنان که او بعد از فنائے این عالم باذات برتر خویش باقی باشد ۔ ایں مقام برائے سالکان از مرد و زن مقام آخرین است و مرکب ہائے ریاضات همین جا بآخر رسد و سلوک ولایت جمله اولیا تا بد بینجامنتهی شود و همین است غرض از استقامتی که در سورۂ فاتحہ مذکور و مطلوب است و هر چه از آتش ہوائے نفس امارہ سر بالا کشد ہمیں جا بحکم خدائے بزرگ و برتر کشته و بر باد فنا رود ۔ پس شہر بکلی مفتوح شود