نجم الہدیٰ — Page 26
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۶ نجم الهدى يقتلون أولادهم خوفا من الإملاق كو انتہا تک پہنچاتے تھے۔ اور وہ لوگ اپنی اولاد کو درویشی اور تنگ دستی کے خوف سے قتل کر دیا والخصاصة، ويقتلون بناتهم عارًا من أن يكون لهم ختن من شركاء القبيلة ۔ وكذلك كانوا يجمعون في أنفسهم کرتے تھے اور بیٹیوں کو اس عار سے قتل کرتے تھے کہ تا شرکاء میں سے ان کا کوئی داماد نہ ہو اور اسی طرح انہوں نے اپنے اندر اخلاق رویہ أخلاقا ردية، وخصالا رذيلة مهلكة اور رذیل خصلتیں جمع کر رکھی تھیں۔ یہاں تک حتى كثر فيهم حزب المقرفین کہ اُن میں ایک جماعت بداصلوں اور الزنيمين، وعاهرات متخذات أخدانا ولد الحراموں کی ہو گئی تھی اور عورتیں زانیہ والزانين۔ والذين كانوا يُخالفون آثار آشناؤں سے تعلق رکھنے والیں اور مرد زانی پیدا مهيعهم فكانوا يخافون عند نصحهم على عرضهم ونفسهم وأهل ہو گئے تھے اور جو لوگ اُن کی راہ کے مخالف ہوتے تھے وہ نصیحت دینے کے وقت اپنی عزت اور جان اور گھر کی نسبت خوف کرتے تھے۔ غرض مربعهم۔ فالحاصل أن العرب كان | عرب کے لوگ ایک ایسی قوم تھی جن کو کبھی قوم لم يواجهوا في مدة عمرهم تلقاء واعظوں کے وعظ سننے کا اتفاق نہ ہوا اور نہیں الواعظين، وكانوا لا يدرون جانتے تھے کہ پر ہیز گاری اور پرہیز گاروں کی از بیم گرسنگی و ناداری می کشتند - و دختران را از ننگ آں کہ نباید از دودمان کسی بدا ما دی سر بلندی بکند بر خاک بلاک می نشاندند و همچنین روشهائی نا پسندیدہ وخو ہائی تکو ہیده در خود گرد آورده بودند تا اینکه در انها گرو ہے بسیار از حرام زادہ ہائے بدنژاد و زنان لولی نهاد که در نهان بآشنایان در می آمیختند پدیدار گشتند و آنانکه خلاف راه آن بد سرشتان رفتار می کردند همواره وقت اندرز و پند بر جان و مال و اہل و آبرو می لرزیدند ۔ خلاصہ عرب گروهی بودند که هرگز اتفاق نیفتاده بود پند اندرزگوئی را گوش بکنند ۔ و بکلی بے خبر