نجم الہدیٰ — Page 15
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۵ نجم الهدى ولا يتم توحيد نفس إلا بعد أن يرى اور کسی نفس میں کامل طور پر توحید پیدا نہیں في وجوده تحقق جنبيه۔ ولا تصير ہوتی جب تک کہ یہ دونوں پہلو اس میں متحقق نفس مطمئنة، ولا تتنزل على قلب نہ ہوں اور کوئی نفس مطمئن نہیں ہو سکتا اور کسی سكينة، إلا أن يكون سابحا في هذه دل پر سکینت نازل نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اللجة، ولا ينجو أحد من مكائد اس دریا میں تیرنے والا نہ ہو۔ اور کوئی شخص نفس امارہ کی مکاریوں سے نجات نہیں پا سکتا الأمارة۔ إلا أن يحصل له حظ من جب تک کہ اس کو یہ مرتبہ حاصل نہ ہو۔ اور جو هذه المرتبة۔ والذين بعدوا منها وما لوگ اس مرتبہ سے دور رہے اور کوئی حصہ اس أخذوا منها حصة ترهقهم ذلة في میں سے نہ لیا ان کو اس دنیا اور قیامت میں ذلت هذه ويوم القيامة هم الذين يمشون پہنچے گی ۔ وہ وہی ہیں جو سیلاب کے خس و خاشاک على الأرض كغثاء على السيل، کی طرح زمین پر چلتے ہیں ۔ اور ایسے بدر و ہیں كأنما أُغشيت وجوههم قطعا من کہ گویا ایک ٹکڑا رات کا اُن کے منہ پر ہے ۔ الليل، يتولدون محجوبین ویعیشون وہ پردوں میں پیدا ہوتے ہیں اور پردوں ہی محجوبين ويموتون محجوبین میں جیتے ہیں اور پردوں میں ہی مرتے ہیں۔ أولئك الذين أعرضت قلوبهم يہ وہی لوگ ہیں جن کے دل خد اتعالیٰ کی و بیچ نفسی از نفوس را نرسد دم از توحید کامل بزند تا وقتیکہ ایں ہر دوشق در وی متحقق نگردد واحدے اطمینان نیابد و سکینت بروی فرود نیاید تا قدرت بر شنا کردن در این دریا دستش ندهد و نمی شود کسی ایمن از مکاری ہائی نفس اماره بنشیند تا بایں مرتبہ فائز نشود و انہائیکہ ازیں مرتبت حرمان نصیب بماندند و بهره از اں نگرفتند در دنیا و عقبی همدوش مذلت و ہمکنار فضیحت خواهند بود امثال این ناکسان ۴ در رنگ خس و خاشاک در راه سیل رفتار کنند و در زشت روئی بمثابه می باشند که گوئی پارہ ہائے شب تار برقع دار بر رخ ناز یبائے انها پوشانیده شده است۔ محجوب زیند و محجوب میرند اینها کسانی می باشند که