نجم الہدیٰ — Page 7
روحانی خزائن جلد ۱۴ نجم الهدى ونال ما نال من منبع الفضل اسی چشمہ فضل اور عطا سے ملا۔ پس دوسروں کے والإعطاء ، ، فما فارت قلوب دل حمد الہی کے لئے ایسے جوش میں نہ آسکے جیسا الآخرين للحمد كما فار قلب کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دل جوش میں آیا کیونکہ ان کے ہر ایک کام کا خدا ہی متولی تھا۔ پس نبينــا لــحـمـد مـنـعـم تولى أمرہ اس وجہ سے کوئی نبی یا رسول پہلے نبیوں اور رسولوں وحده من جميع الأنحاء فلأجل میں سے احمد کے نام سے موسوم نہیں ہوا کیونکہ ان ذالك ما سمى أحد منهم باسم میں سے کسی نے خدا کی توحید اور شنا ایسی نہیں کی أحمد، فإنه ما أثنى على الله أحد جيسا كہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان کی منهم كمحمد وما وحد، وكان نعمتوں میں انسان کے ہاتھ کی ملونی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ان کو تمام علوم في نعمهم مزج أيدى الإنسان وما علمهم الله كعلمه وما تولّى بے واسطہ نہیں دیئے گئے اور ان کے تمام امور کا بلا واسطه خدا متوتی نہیں ہوا اور نہ تمام امور میں كل أمورهم و ما أيد۔ فلا بے واسطہ ان کی تائید کی گئی۔ پس کامل طور پر مهدى إلا محمد ولا أحمد إلا بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی مہدی محمد على وجه الكمال، وهذا نہیں اور نہ کامل طور پر بجز آنجناب کے کوئی آنچه را یافت از خدا یافت و آنچه را در دامان وی ریختند از همان چشمه جود و عطا بر یختند لذا نشد دلہائے دیگران از بهر ستایش الهی آن گرمی و جوش بهم رسانند که نبی مارا در تحمید الہی میسر آمد ۔ زیرا کہ کارساز ہر کا راو خود خداوند بزرگ بود و از بینجا است که غیر او از انبیاء ورسل بنام احمد نامز د نشد - چه نعمت هائی که اوشان یافتند آمیزش دست انسانی داشت و چون نبی ما اوشان جملہ علوم بے واسطہ ادراک نہ کردند و تمام کا رہائے اوشان را خدا بی واسطه متولی نشده در همه آنچه باوشان پیش آمد بی توسطے تائید شان نکرد۔ لہذا از جهت کمال غیر آنجناب نبوت انتساب مهدی و احمد نبوده و این سری است که ابدال بکنه آن توانند پی ببرند۔