نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 550

نجم الہدیٰ — Page 244

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۴۴ ايام الصلح اس کو بے سود سمجھنا یا جذب فیوض کے لئے اس کو ایک محرک قرار نہ دینا گویا خدا تعالیٰ کی تیسری صفت سے جو رحیمیت ہے انکار کرنا ہے ۔ مگر یہ انکار در پردہ دہریت کی طرف ایک حرکت ہے کیونکہ رحیمیت ہی ایک ایسی صفت ہے جس کے ذریعہ سے باقی تمام صفات پر یقین بڑھتا اور کمال تک پہنچتا ہے۔ وجہ یہ کہ جب ہم خدا تعالیٰ کی رحیمیت کے ذریعہ سے اپنی دعاؤں اور تضرعات پر الہی فیضوں کو پاتے ہیں اور ہر ایک قسم کی مشکلات حل ہوتی ہیں تو ہمارا ایمان خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی قدرت اور رحمت اور دوسری صفات کی نسبت بھی حق الیقین تک پہنچتا ہے اور ہمیں چشم دید ماجرا کی طرح سمجھ آ جاتا ہے کہ خدا تعالی در حقیقت حمد اور شکر کا مستحق ہے اور در حقیقت اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور دوسری صفات سب درست اور صحیح ہیں لیکن بغیر رحیمیت کے ثبوت کے دوسری صفات بھی مشتبہ رہتی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ امر مقدم اور ایک بھاری مرحلہ جو ہمیں طے کرنا چاہئیے وہ خدا شناسی ہے اور اگر ہماری خدا شناسی ہی ناقص اور مشتبہ اور دھندلی ہو تو ہمارا ایمان ہرگز منور اور چمکیلا نہیں ہو سکتا۔ اور یہ خدا شناسی جب تک کہ رحیمیت کی صفت کے ذریعہ سے ہمارا چشم دید واقعہ نہ بن جائے تب تک ہم کسی طرح سے اپنے رب کریم کی حقیقی معرفت کے چشمہ سے آب زلال نہیں پی سکتے۔ اگر ہم اپنے تئیں دھوکا نہ دیں تو ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ ہم تکمیل معرفت کے لئے اس بات کے محتاج ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے ذریعہ سے تمام شکوک و شبہات ہمارے دور ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل اور قدرت کی صفات تجربہ میں آکر ہمارے دل پر ایسا قوی اثر پڑے کہ ہمیں اُن نفسانی جذبات سے چھڑائے جو محض کمزوری ایمان اور یقین کی وجہ سے ہمارے پر غالب آتے اور دوسری طرف رُخ کر دیتے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ انسان اس چند روزہ دنیا میں آ کر بوجہ اس کے کہ خدا شناسی کی پر زور کر نہیں اُس کے دل پر نہیں پڑتیں ایک خوفناک تاریکی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور جس قدر دنیا اور دنیا کی املاک اور دنیا کی ریاستیں اور حکومتیں اور دولتیں اس کو پیاری معلوم ہوتی ہیں اس قدر