نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 550

نجم الہدیٰ — Page 230

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۳۰ ايام الصلح جس کو ہم دوسرے لفظوں میں دُعا کہہ سکتے ہیں کیونکہ فکر اور غور کے وقت جب کہ ہم ایک مخفی امر کی تلاش میں نہایت عمیق دریا میں اُتر کر ہاتھ پیر مارتے ہیں تو ہم ایسی حالت میں یہ زبانِ حال اُس اعلیٰ طاقت سے فیض طلب کرتے ہیں جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ غرض جب کہ ہماری روح ایک چیز کے طلب کرنے میں بڑی سر گرمی اور سوز و گداز کے ساتھ مبدء فیض کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اور اپنے تئیں عاجز پا کر کر کے ذریعہ سے کسی اور جگہ سے روشنی ڈھونڈتی ہے تو در حقیقت ہماری وہ حالت بھی دُعا کی ایک حالت ہوتی ہے۔ اُسی دُعا کے ذریعہ سے دنیا کی کل حکمتیں ظاہر ہوئی ہیں۔ اور ہر ایک بیت العلم کی گنجی دعا ہی ہے اور کوئی علم اور معرفت کا دقیقہ نہیں جو بغیر اس کے ظہور میں آیا ہو۔ ہمارا سوچنا ہمارا فکر کرنا اور ہمارا طلب امر مخفی کے لئے خیال کو دوڑانا یہ سب امور دُعا ہی میں داخل ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ عارفوں کی دُعا آداب معرفت کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے اور اُن کی روح مبدء فیض کو شناخت کر کے بصیرت کے ساتھ اس کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اور مجوبوں کی دُعا صرف ایک سرگردانی ہے جو فکر اور غور اور طلب اسباب کے رنگ میں ظاہر ہوتی ہے۔ وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ سے ربط معرفت نہیں اور نہ اس پر یقین ہے وہ بھی فکر اور غور کے وسیلہ سے یہی چاہتے ہیں کہ غیب سے کوئی کامیابی کی بات اُن کے دل میں پڑ جائے اور ایک عارف دُعا کرنے والا بھی اپنے خدا سے یہی چاہتا ہے کہ کامیابی کی راہ اس پر کھلے لیکن محجوب جو خدا تعالیٰ سے ربط نہیں رکھتا وہ مبدء فیض کو نہیں جانتا اور عارف کی طرح اس کی طبیعت بھی سرگردانی کے وقت ایک اور جگہ سے مدد چاہتی ہے اور اسی مدد کے پانے کے لئے وہ فکر کرتا ہے۔ مگر عارف اُس مبدء کو دیکھتا ہے اور یہ تاریکی میں چلتا ہے اور نہیں جانتا کہ جو کچھ فکر اور خوض کے بعد بھی دل میں پڑتا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ متفکر کے فکر کو بطور دُعا قرار دے کر بطور قبول دعا اس علم کو فکر کرنے والے کے دل میں ڈالتا ہے۔ غرض جو حکمت اور معرفت کا نکتہ فکر کے ذریعہ سے دل میں پڑتا ہے وہ بھی خدا سے ہی آتا ہے اور فکر کرنے والا اگر چہ نہ سمجھے مگر خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ مجھ سے ہی مانگ رہا ہے۔