نجم الہدیٰ — Page 199
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۹۹ كشف الغطاء میں نے تین جگہ کھول کر بیان کر دیا تھا کہ یہ اشتہار صرف جھوٹے کی ذلت کے لئے ہے ہم دونوں فریق میں سے کوئی ہو ۔ اور پھر میں نے یہ سن کر کہ محمد حسین میرے اشتہا ر ا ۲ نومبر کے ﴿۱۷﴾ خلاف واقعہ معنے بیان کرتا ہے ۳۰ رنومبر ۱۸۹۸ء کا اشتہار اس غرض سے شائع کیا کہ تا محمد حسین الٹے معنے کر کے لوگوں کو دھوکا نہ دیوے مگر میں نے سنا ہے کہ بعد اس کے پھر بھی وہ دھوکہ دیتا رہا ۔ ایک بچہ بھی جو ادنی استعداد رکھتا ہو میرے ان دونوں اشتہارات کو دیکھ کر جو ۲۱ نومبر ۹۸ء اور ۳۰ رنومبر ۹۸ء میں جاری ہوئے تھے بدیہی طور پر سمجھ سکتا ہے کہ ان اشتہارات میں کسی کے قتل کرنے کی پیشگوئی نہیں ہے بلکہ محض جھوٹے کی ذلت کے لئے بد دعا ے ۔ اور یہی غرض تھی جس کی وجہ سے میں نے محمد حسین کا اشتہار جو محمد بخش اور الہام ہے ☆ - اور ابو الحسن تبتی کے نام سے جاری کیا گیا تھا ۔ اشتہا ر ۲۱ نومبر ۹۸ ء کے ساتھ چھاپ بھی دیا تھا اس سے میری یہ غرض تھی کہ تا معلوم ہو کہ محمد حسین نے محض بد زبانی سے مجھے ذلیل کرنا چاہا ہے اور میں خدا سے یہ فیصلہ چاہتا ہوں کہ جو شخص ہم میں سے جھوٹا ہے وہ اسی طرح ذلیل ہو ۔ میں نے اس رسالے کے اخیر پر اپنے دواشتہار یعنی ۲۱ نومبر ۱۹۸ اور ۳۰ رنومبر ۹۸ء کا ترجمہ انگریزی میں شامل کر دیا ہے۔ یہ بات کہ میں نے کیوں یہ اشتہا ر ۲۱ نومبر ۹۸ لکھا اور کسی صحیح ضرورت کی وجہ سے میں اس کے لکھنے کا مجاز تھا اس کا جواب میں ابھی دے چکا ہوں کہ میں ایک سال سے زیادہ عرصہ تک گندہ اشتہاروں کا نشانہ رہا یعنی محمد حسین اور اس کے گروہ کی طرف سے میری نسبت برابر ایک برس تک گالیوں کے اشتہار جاری ہوتے رہے اور ان اشتہارات میں میری سخت اہانت اور بے عزتی کی گئی اور مجھے ذلیل کرنے میں الهام جزاء سيئة بمثلها کہ جو اشتہا ر ۲۱ نومبر ۹۸ء میں درج ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ جھوٹے کی ذلت تو ہو گی مگر اسی قسم کی جو اس نے اپنے فعل سے فریق ثانی کو پہنچائی ہو۔ پس اس جگہ ذلت کی قسم مثل کے لحاظ سے قرار دی گئی ہے۔ منہ