نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 550

نجم الہدیٰ — Page 85

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۸۵ نجم الهدى هذا الدين القبيح من أول علامات بددین کا پھیلنا ظہور مسیح کی پہلی علامت ہے ظهور المسيح؟ وعليها اتفق أهل اور اس پر اہل سنت نے اقرار صریح کے ساتھ السنة بالإقرار الصريح، ولم يبق فرد اتفاق کیا ہے اور کوئی فردان میں سے اس منهم مخالفا لهذا الحديث الصحيح۔ حدیث صحیح کا مخالف نہیں ہے اور عقل سلیم اور ولا يقبل عقل سليم وطبع مستقيم أن طبع مستقیم قبول نہیں کر سکتی کہ علامتیں تو اس تظهر العلامات بهذه الشوكة | شوکت اور شان کے ساتھ ظاہر ہوں اور دجل والشان، وتبلغ إلى حد الكمال طرق اور فتنہ انگیزی کمال تک پہنچ جائے اور اس پر الدجل والافتنان، وتنقضى على ایک زمانہ بھی گزر جائے اور مسیح موعود اب شدتها برهة من الزمان، ثم لا يظهر تک ظاہر نہ ہو باوجود اس بات کے کہ صدی المسيح الموعود إلى هذا الأوان۔ مع أن ظهوره على رأس الماة من کے سر پر اس کا ظاہر ہونا امور مسلّمہ دین میں المسلمات، وقد مضت المأة قريبا سے ہے۔ اور صدی بھی خمس کے قریب گزرگئی ۱۲ من خمسها وانتهى الأمر إلى الغايات اور انتظار مجدد کا امر نہایت تک پہنچ گیا اور ۱۶ لا يخفى ان المجدد لاياتي الا لاصلاح یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ مجدد موجودہ فساد کی ملت قبیحہ اول علامت ظهور مسیح موعود است - واہل سنه با قرار صریح بر این اتفاق دارند و هیچ نفسی از اوشاں خلاف ایں حدیث صحیح نرفتہ ۔ عقل سلیم باور نکند که نشانها با ایں شان ظاہر بشوند و طریق فتنه و فریب بسرحد پایان برسد و زمانی دراز از زمان براں بگذرد و هنوز مسیح موعود بروز نکند با آنکه ظهوش بر سر صد از مسلمات است و اکنون از صد قریب به پنجم حصه آن گذشته و انتظارش ظاہراً مجدد از پئے اصلاح مفاسد موجودہ مے آید و روی به بر کندیدن ۱۶ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ظہورش “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)