نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 550

نجم الہدیٰ — Page 80

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۸۰ نجم الهدى وإن نقض العهود من سير الكاذبين، کیونکہ نقض عہد جھوٹوں کی خصلتوں میں سے ہے فكيف يصدر هذا من أصدق سويه امراصدق الصادقین سے کیونکر صادر ہو سکے الصادقين؟ وهو ملك قدوس نور اور وہ قدوس آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔ اس السماوات والأرضين، لا يُعزى إليه كذب ولا تخلف وعد كالمخلوقين وقد تنزّه شأنه عن صفات المزورين۔ انظر إلى وعده ثم انظر كيف کی طرف جھوٹ اور تخلف وعدہ مخلوق کی طرح منسوب نہیں ہو سکتا اور اس کی شان دروغگو لوگوں کی صفات سے منزہ ہے۔ اس کے وعدہ کو دیکھ۔ بلغت دعوة الصليب ذُرَى كمالها | پھر دیکھ کہ صلیبی دعوت کس کمال تک پہنچ گئی ہے۔ دا وقطعت الأطماع عن زوالها، اور اس کے زوال کی امید قطع ہو چکی ہے۔ اور تم وترون أن خيامها كيف رست دیکھتے ہو کہ اس کے خیمے رسوں کے ذریعہ بقية الحاشية یکسر شان هذه السادات نہیں ہے جو ان بزرگوں کی کسر شان کرتا ہو وانما نرد سب السابين اور صرف ہم گالی دینے والوں کی گالی ان کے على وجوههم جزاء | للمفتريات ۔ منه منہ کی طرف واپس کرتے ہیں تا ان کے افترا کی پاداش ہو ۔ منہ که هرگاه وعده کند ایفا کند - چه شکستن عهد شیمه دروغ زنان است چه جائے آنکه از راست ترین راستان سر بر زند۔ و آں پاک برتر نور آسمان و زمین است و چون آفریدہ ہا دروغ و خلاف وعدہ باو منسوب نمی شود ۔ وشان وی بالاتر از دروغ زنان است ۔ اولاً نظر بر وعده اش بکن باز نگا ہے بیند ۱۵ از که دعوت صلیبی تا چه پایاں رسیدہ و امید زوال آں بنو میدی بدل شدہ۔ خیمہ اش باطنابها در بیان ما حرفی نخواهد بود که کسر شان همچو بزرگان از آن پیدا شود کار ما جز ایں نہ کہ دشنام دشنام دهندگان را بر روئے شاں باز ۔ پس میزنیم تا انها به پاداش افترائی خود برسند ۔ منہ