مواہب الرحمٰن — Page 17
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۷ کشتی نوح کے خیال نے لاکھوں کو ہلاک کر دیا گویا خدا نے اس کو ہمیشہ کے لئے اس لئے زندہ رہنے دیا کہ تالوگ مشرک اور بے دین ہو جائیں اور گویا یہ لوگوں کی غلطی نہیں بلکہ خدا نے یہ سب کچھ خود کیا تا لوگوں کو گمراہ کرے خوب یا د رکھو کہ بجز موت مسیح صلیبی عقیدہ پر موت نہیں آ سکتی سواس سے فائدہ کیا کہ بر خلاف تعلیم قرآن اس کو زندہ سمجھا جائے اس کو مر نے دوتا یہ دین زندہ ہو۔ خدا نے اپنے قول سے مسیح کی موت ظاہر کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اُس کو مردوں میں دیکھ لیا اب بھی تم ماننے میں نہیں آتے۔ یہ کیسا ایمان ہے کیا انسانوں کی روایتوں کو خدا کی کلام پر مقدم رکھتے ☆ ہو یہ کیا دین ہے اور ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف گواہی دی کہ میں نے مردہ اللہ روحوں میں عیسیٰ کو دیکھا بلکہ خود مر کر یہ بھی ظاہر کر دیا کہ اس سے پہلے کوئی زندہ نہیں رہا۔ پس ہمارے مخالف جیسا کہ قرآن کو چھوڑتے ہیں ویسا ہی سنت کو بھی چھوڑتے ہیں کیونکہ مرنا ہمارے نبی کی سنت ہے اگر عیسی زندہ تھا تو مرنے میں ہمارے رسول کی بے عزتی تھی سو تم نہ اہل سنت ہو نہ اہل قرآن جب تک عیسیٰ کی موت کے قائل نہ ہو۔ اور میں حضرت عیسی علیہ السلام کی شان کا منکر نہیں گو خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے لیکن تاہم میں مسیح ابن مریم کی بہت عزت کرتا ہوں کیونکہ میں روحانیت کی رو سے اسلام میں خاتم الخلفاء ہوں جیسا کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی سلسلہ کے لئے خاتم الخلفاء تھا موسیٰ کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی سلسلہ میں میں مسیح موعود ہوں سو میں اس کی عزت کرتا ہوں جس کا ہم نام ہوں اور مفسد اور مفتری ہے نوٹ ۔ قرآن شریف میں ایک آیت میں صریح کشمیر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسیح اور اس کی والدہ صلیب کے واقعہ کے بعد کشمیر کی طرف چلے گئے جیسا کہ فرماتا ہے۔ وَ أَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ } یعنی ہم نے عیسی اور اس کی والدہ کو ایک ایسے ٹیلے پر جگہ دی جو آرام کی جگہ تھی اور پانی صاف یعنی چشموں کا پانی وہاں تھا سو اس میں خدا تعالیٰ نے کشمیر کا نقشہ کھینچ دیا ہے اور اوی کا لفظ لغت عرب میں کسی مصیبت یا تکلیف سے پناہ دینے کے لئے آتا ہے اور صلیب سے پہلے عیسی اور اُس کی والدہ پر کوئی زمانہ مصیبت کا نہیں گزرا جس سے پناہ دی جاتی پس متعین ہوا کہ خدا تعالیٰ نے عیسیٰ اور اُس کی والدہ کو واقعہ صلیب کے بعد اس ٹیلے پر پہنچایا تھا۔ منہ المومنون : ۵۱