مواہب الرحمٰن — Page 471
روحانی خزائن جلد ۱۹ ٤٦٩ سناتن دھرم متبنی پکڑنے کی رسم جاری کر دی۔ اور مردوں کی شرافت نے نہ چاہا کہ اس قابل شرم طریق یعنی نیوگ پر اپنی عورتوں کا عملدرآمد کراویں۔ اس لئے انہوں نے اس بات کو پسند کر لیا کہ متبنی کر لیں۔ اور اگر چہ تبنی کرنا بھی ایک بناوٹ ہے۔ مگر تا ہم اس بے حیائی اور نا پاک رسم سے تو ہزار ہا درجہ بہتر ہے۔ یہ تو ایسا نا پاک طریق ہے کہ اگر کسی چوہڑے یا چمار کو بھی کہا جائے کہ اپنی عورتوں سے ایسا کر اوے تو وہ بھی مرنے مارنے کو طیار ہو جائے گا ۔ پس ہمیں آریہ صاحبان پر کیوں افسوس نہ ہو کہ انہوں نے آنکھ بند کر کے دیانند کی باتیں قبول کر لیں ۔ آخر سناتن دھرم والے بھی قوم کی رُو سے اُن کے بھائی تھے۔ کیا قدیم سے وہ وید نہیں پڑھتے تھے پھر کیوں وہ اس بے حیائی کے طریق کو پسند نہیں کرتے ۔ افسوس تو یہ ہے کہ جب خیر خواہی کی رو سے آریہ صاحبوں کو کہا جائے کہ آپ لوگ اس طریق کو چھوڑ دیں اور ایسے کام اپنی عورتوں سے مت کر اویں تو وہ اُلٹے غصہ کرنے لگتے ہیں ۔ عجیب حالت آریہ سماج والوں کی ہے کہ ان کو اس کام میں کچھ بھی شرم نہیں آتی ۔ گذشتہ دنوں میں میں نے چند آریوں کو اپنے مکان پر بلایا تھا ان میں سے ایک آریہ کشن سنگھ نام تھا جو با وانا تک صاحب کی پیروی سے ناراض ہو کر اب ۳ آریہ بنا ہوا ہے اور ایسے شخص کو چھوڑ کر جو روحانیت اور پاکیزگی اپنے ا ت اور پاکیزگی اپنے اندر رکھتا تھا اور اپنے کرتار کی محبت سے اس کا دل بھرا ہوا تھا۔ پنڈت دیانند کا ہر وقت جپ کرنا شروع کر دیا ہے اس کے ساتھ لالہ شرم پت اور لالہ ملا وامل قادیان بھی تھے اور پنڈت سوم راج سکرٹری آریہ سماج قادیان بھی ہمراہ تھے۔ اور چند سناتن دھرم کے ہندو تھے ۔ تب ہم نے ان لوگوں کو بہت سمجھایا کہ ایسے کام اپنی عورتوں سے کرانے مناسب نہیں ۔ خاص کر اس گاؤں میں تب اس وقت سب چپ رہے اور سب کو شرم دامن گیر ہوئی مگر پنڈت سوم راج بول اُٹھے کہ اس کام میں کچھ مضائقہ نہیں تب سناتن دھرم والے جو موجود تھے اس بات کو سن کر کہ اس شخص نے ایک بھری مجلس با ں میں اپنی عورت کی نسبت ایسا نا پاک کام روا رکھا اور حیا سے کچھ کام نہ لیا سب نے