مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 461 of 566

مواہب الرحمٰن — Page 461

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۵۹ نسیم دعوت میں تو ارواح یعنی جیو رہتے ہیں اور دوسرے محلہ میں پر مانو یعنی ذرات اجسام رہتے ہیں اور تیسرے محلہ کے کونہ میں پرمیشر رہتا ہے کیونکہ جو چیزیں انادی اور اپنا اپنا وجود مستقل رکھتی ہیں ان میں پر میشر ھنس نہیں سکتا۔ کیا تم سرب بیا پک ہو سکتے ہو۔ پس سوچ کر دیکھو کہ انادی اور غیر مخلوق ہونے کی حیثیت سے تم میں اور پرمیشر میں کیا فرق ہے پس وہ کیونکر غیر میں دھنس جائے گا ۔ پس خواہ مخواہ تمہا را پر میشر محدود ہو گیا اور بوجہ محدود ہونے کے علم بھی محدود ہو گیا مگر اس خدا کو کون محدود کہہ سکتا ہے جس کو قرآن شریف نے پیش کیا ہے جس کی نسبت وہ کہتا ہے کہ ہر ایک جان کی وہی جان ہے۔ جس کے ساتھ وہ زندہ ہے اور ذرہ ذرہ اس کے ہاتھ سے نکلا اور اسی کے سہارے سے موجود ہے اور سب چیز پر وہ محیط ہے کیونکہ ہر ایک چیز اسی سے نکلی ہے۔ نادان انسان جو تعصب سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ ایک بات اپنے منہ سے نکالتا ہے اور کبھی ارادہ نہیں رکھتا کہ اس کا فیصلہ کرے۔ یہی آریہ صاحبوں کا حال ہے گویا وہ اس دنیا میں صورت میں جو صفتیں بت پرستوں نے چار دیوتاؤں کے لئے مقرر کر رکھی تھیں ۔ خدا تعالیٰ نے ان سب کو اپنی ذات میں جمع کر دیا ہے اور صرف اپنی ذات کو ان صفات کا منع ظاہر فرمایا۔ بت پرست قدیم سے یہ بھی خیال کرتے تھے کہ خدا کی اصولی صفات یعنی جو اصل جڑ تمام صفات کی ہیں وہ صرف چار ہیں۔ پیدا کرنا پھر مناسب حال سامان عطا کرنا ۔ پھر ترقی کے لئے عمل کرنے والوں کی مدد کرنا پھر آخر میں جزا سزاد ینا اور وہ ان چار صفات کو چار دیوتاؤں کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اسی بنا پر نوح کی قوم کے بھی چار ہی دیوتا تھے اور انہیں صفات کے لحاظ سے عرب کے بت پرستوں نے بھی لات ۔ منات وعزئی اور ہبل بنا رکھے تھے۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ یہ چار دیوتا بالا رادہ دنیا میں اپنے اپنے رنگوں میں پرورش کر رہے ہیں اور ہمارے شفیع ہیں اور ہمیں خدا تک بھی یہی پہنچاتے ہیں۔ چنانچہ یہ مطلب آیت لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفی سے ظاہر ہے۔ اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں وید بھی ان چاروں دیوتاؤں کی مہما اور استت کی ترغیب دیتا ہے اور وید میں اگر چہ اور دیوتاؤں کا بھی ذکر ہے لیکن اصولی دیوتے جن سے اور سب دیوتے پیدا ہوئے ہیں یا یوں کہو کہ ان کی الزمر: ۴