مواہب الرحمٰن — Page 143
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۴۳ اعجاز احمدی ضمیمه نزول اسیح ایک اور بات رہ گئی جس کا بیان کرنا لازم ہے اور وہ یہ کہ مد کے مباحثہ میں جب ہمارے مخلص ۳۳﴾ دوست سید محمد سرور شاہ صاحب نے اعجاز المسح کو جومیری عربی کتاب ہے بطور نشان کے پیش کیا کہ یہ ایک معجزہ ہے اور اس کی نظیر پر مخالف قادر نہیں ہوئے تو مولوی ثناء اللہ صاحب نے مولوی محمد حسین بٹالوی کا حوالہ دے کر کہا کہ اُنہوں نے اعجاز المسیح کی غلطیوں کے بارے میں ایک لمبی فہرست تیار کی ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ تیار کی ہو گی مگر وہ ایسی ہی فہرست ہو گی جیسا کہ پہلے مولوی صاحب موصوف نے میرے ایک فقرے پر اعتراض کیا تھا۔ کہ عجب کا لام صلہ نہیں آتا۔ اور اس پر بہت زور دیا تھا اور جب ان کو کئی قدیم استادوں اور جاہلیت کے شاعروں کے شعر بلکہ بعض حدیثیں دکھلائی گئیں جن میں لام صلہ آیا تھا تو پھر مولوی صاحب چاہ ندامت میں ایسے غرق ہو گئے کہ کوئی ان کا ادیب رفیق بھی اس کنوئیں سے اُن کو نکال نہ سکا۔ یہ انہیں دنوں کی بات ہے جب مولوی صاحب کی ذلت کے لئے پیشگوئی کی گئی تھی اور اشتہار میں لکھا گیا تھا کہ وہ پیشگوئی دوطور سے پوری ہوئی ۔ اول یہ کہ مولوی صاحب کی منافقانہ عادت ثابت ہو گئی کہ گورنمنٹ کو تو یہ تسلی دیتے ہیں کہ مہدی کچھ چیز نہیں تمام حدیثیں مجروح ہیں قابل اعتبار نہیں کیسا مہدی اور کیسا وہ مسیح جو آسمان سے اُس کی مدد کے لئے آئے گا ۔ سب باتیں بے اصل ہیں اور ان باتوں کو پیش کر کے بڑے انعام کے خواہشمند معلوم ہوتے ہیں اور اگر وہ دل سے ایسے مہدی اور ایسے مجاہد عیسی کا انکار کرتے تو ہم بھی ان پر بہت خوش ہوتے کیونکہ سچ بولنے والا عزت کے لائق ہوتا ہے اور اس صورت میں اگر گورنمنٹ نہ صرف لائکپور میں کچھ زمین بلکہ بٹالہ اس کو جاگیر میں دے دیتی تو بھی ان کا حق تھا لیکن ہم اس پر راضی نہیں ہیں اور ہر گز نہیں ہو سکتے کہ ایک شخص محض نفاق کے طور پر گورنمنٹ کے آگے مہدی کی ضعیف اور مجروح حدیثوں کی ایک فہرست پیش کر کے یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ مسلمان ایسے مہدی اور ایسے عیسی کے منتظر نہیں ہیں جو عیسائیوں کے ساتھ لڑے گا اور یہ یقین دلاتا ہے کہ میرا تو یہی عقیدہ ہے کہ کوئی ایسا مہدی نہیں