مواہب الرحمٰن — Page 121
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۲۱ اعجاز احمدی ضمیمه نزول اسیح صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ل (الجز و ۶ سوره نساء ) اس آیت میں دونوں جملوں کا جواب ہے اور خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ نہ تو عیسیٰ کی ناجائز ولادت ہے اور نہ وہ صلیب پر مرا بلکہ دھوکے سے سمجھ لیا گیا کہ مر گیا ہے۔ اس لئے وہ مقبول ہے اور اس کا اور نبیوں کی طرح خدا کی طرف رفع ہو گیا ہے۔ اب کہاں ہیں وہ مولوی جو آسمان پر حضرت عیسیٰ کا جسم پہنچاتے ہیں یہاں تو سب جھگڑا اُن کی روح کے متعلق تھا جسم سے اس کو کچھ علاقہ نہیں ۔ غرض قرآن شریف نے حضرت مسیح کو سچا قرار دیا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کی پیشگوئیوں پر یہود کے سخت اعتراض ہیں جو ہم کسی طرح اُن کو دفع نہیں کر سکتے۔ صرف قرآن کے ﴿۱۴﴾ سہارے سے ہم نے مان لیا ہے اور سچے دل سے قبول کیا ہے اور بجز اس کے ان کی نبوت پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں ۔ عیسائی تو ان کی خدائی کو روتے ہیں مگر یہاں نبوت بھی اُن کی ثابت نہیں ہو سکتی۔ ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی تین پیشگوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے ان لوگوں پر واویلا ہے جو میرے معاملہ میں سچ کو جھوٹ بنا رہے ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالیٰ کا نہایت فضل ہے کبھی وہ شخص لوگوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہوگا جو اس نبی مقبول کا سچا تابع ہے۔ میں اُن نادانوں کو کیا کہوں اور کیوں کر اُن کے دل میں سچائی کی محبت ڈال دوں جو نقالوں کی طرح پھرتے ہیں اور ٹھٹھا اور ہنسی اُن کا کام ہے اور مسخری اُن کا شیوا ہے۔ صد ہانشان آفتاب کی طرح چمک رہے ہیں مگر اُن کے نزدیک اب تک کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔ میں نے سنا ہے بلکہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کی دستخطی تحریر میں نے دیکھی ہے جس میں وہ یہ درخواست کرتا ہے کہ میں اس طور کے فیصلہ کے لئے بدل خواہشمند ہوں کہ فریقین یعنی میں اور وہ یہ دعا کریں کہ جو شخص ہم د شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہی مر جائے اور نیز یہ بھی خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ اعجاز لمسیح کی مانند کتاب تیار کرے جو ایسی ہی ی ہی فصیح بلیغ ہوا اور انہیں مقاصد پر مشتمل ہو۔ سو اگر مولوی ثناء اللہ صاحب نے النساء : ۱۵۸،۱۵۷