منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 472 of 581

منن الرحمٰن — Page 472

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۷۰ معیار المذاہب طاقت اور قدرت کو وزن کیا جائے تب بھی اس کے مقابل پر بھی یہ بیچ محض ہے کیونکہ آریوں کا فرضی پر میشر اگر چہ پیدا کرنے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا لیکن کہتے ہیں کہ پیدا شدہ چیزوں کو کسی قدر جوڑ سکتا ہے مگر عیسائیوں کے یسوع میں تو اتنی بھی طاقت ثابت نہ ہوئی جس وقت یہودیوں نے صلیب پر کھینچ کر کہا تھا کہ اگر تو اب اپنے آپ کو بچائے تو ہم تیرے پر ایمان لاویں گے تو وہ ان کے سامنے اپنے تئیں بچا نہ سکا ور نہ اپنے تئیں بچانا کیا کچھ بڑا کام تھا صرف اپنی روح کو اپنے جسم کے ساتھ جوڑنا تھا۔ سو اس کمزور کو جوڑنے کی بھی طاقت نہ ہوئی ۔ پیچھے سے پر دہ داروں نے باتیں بنا لیں کہ وہ قبر میں زندہ ہو گیا تھا مگر افسوس کہ انہوں نے نہ سوچا کہ یہودیوں کا تو یہ سوال تھا کہ ہمارے روبرو ہمیں زندہ ہو کر دکھلاوے پھر جبکہ ان کے رو برو زندہ نہ ہو سکا اور نہ قبر میں زندہ ہو کر ان سے آ کر ملاقات کی تو یہودیوں کے نزدیک بلکہ ہر یک محقق کے نزدیک اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حقیقت میں زندہ ہو گیا تھا اور جب تک ثبوت نہ ہو تب تک اگر فرض بھی کر لیں کہ قبر میں لاش گم ہو گئی تو اس سے زندہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ عند العقل یقینی طور پر یہی ثابت ہو گا کہ در پردہ کوئی کرامات دکھلانے والا چرا کر لے گیا ہو گا ۔ دنیا میں بہتیرے ایسے گزرے ہیں کہ جن کی قوم یا معتقد وں کا یہی اعتقاد تھا کہ ان کی نعش گم ہو کر وہ معہ جسم بہشت میں پہنچ گئی ہے تو کیا عیسائی قبول کر لیں گے کہ فی الحقیقت ایسا ہی ہوا