منن الرحمٰن — Page 417
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۱۵ نور القرآن نمبر ۲ آپ اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ کسی امر کا جواب دینا اور بات ہے مگر معقول طور پر جواب دینا اور بات ہے ۔ اب بتاؤ معقولی طور پر یہ جواب ہیں یا نہیں ۔ اور ابھی وقت آیا یا نہیں کہ ہم لعنة اللہ علی الکاذبین کہہ دیں ۔ آپ نے یہ بھی خط میں لکھا ہے کہ محمد ی لوگ جواب تو دیتے ہیں مگر وہ عقل کے سامنے جواب نہیں سمجھے جاتے اب ہمارے یہ تمام جواب آپ کے سامنے ہیں اس کو چند منصفوں کو دکھلاؤ کہ کیا یہ عقل کے سامنے جواب ہیں یا نہیں ۔ کیا آپ امید رکھتے ہیں کہ جو انجیل پر اعتراض ہم نے کئے ہیں آپ ان کا کچھ جواب دے سکیں گے ہرگز ممکن نہیں وہ دن آپ پر کبھی نہیں آئے گا کہ ان اعتراضات کے جواب سے سبکدوش ہوسکیں ۔ پھر آپ کا ایک یہ وسوسہ ہے کہ کامل گناہ کا بیان انجیل میں ہی ہے لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ انجیل تقوی کی راہوں کو کامل طور پر بیان نہیں کر سکی اور نہ انجیل نے ایسا دعوی کیا مگر قرآن شریف نے تو اپنے نزول کی علت غائی ہی یہ قرار دی ہے کہ تقویٰ کی را ہوں کو سکھائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذُلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ۔ یعنی یہ کتاب اس غرض سے اتری ہے کہ تا جو لوگ گناہ سے پر ہیز کرتے ہیں ان کو باریک سے باریک گنا ہوں پر بھی اطلاع دی جائے تا وہ ان بُرے کاموں سے بھی پر ہیز کریں جو ہر یک آنکھ کو نظر نہیں آتے بلکہ فقط معرفت کی خورد بین سے نظر آ سکتے ہیں اور موٹی نگا ہیں ان کے دیکھنے سے خطا کر جاتی ہیں مثلاً آپ البقرة : ٣