منن الرحمٰن — Page 358
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۵۶ نور القرآن نمبرا ۲۰ جس بلا کا خوف ہے یا جس گناہ کا اندیشہ ہے خدا تعالیٰ اس بلایا اس گناہ کو ظاہر ہونے سے روک دے اور ڈھانکے رکھے سو اس استغفار کے ضمن میں یہ وعدہ دیا۔ گیا کہ اس دین کے لئے غم مت کھا ۔ خدا تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرے گا اور ہمیشہ رحمت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتا رہے گا اور ان بلاؤں کو روک دے گا جو کسی ضعف کے وقت عا ئد حال ہو سکتی ہیں ۔ اکثر نادان عیسائی مغفرت کی سچی حقیقت نہ دریافت کرنے کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جو شخص مغفرت مانگے وہ فاسق اور گنہ گار ہوتا ہے مگر مغفرت کے لفظ پر خوب غور کرنے کے بعد صاف طور پر سمجھ آ جاتا ہے کہ فاسق اور بد کار وہی ہے جو خدا تعالیٰ سے مغفرت نہیں مانگتا۔ کیونکہ جبکہ ہر یک سچی پاکیزگی اسی کی طرف سے ملتی ہے اور وہی نفسانی جذبات کے طوفان سے محفوظ اور معصوم رکھتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کے راستباز بندوں کا ہر یک طرفۃ العین میں یہی کام ہونا چاہیے کہ وہ اس حافظ اور عاصم حقیقی سے مغفرت مانگا کریں۔ اگر ہم جسمانی عالم میں مغفرت کا کوئی نمونہ تلاش کریں۔ تو ہمیں اس سے بڑھ کر اور کوئی مثال نہیں مل سکتی کہ مغفرت اس مضبوط اور نا قابل بند کی طرح ہے جو ایک طوفان اور سیلاب کے روکنے کے لئے بنایا جاتا ہے پس چونکہ تمام زور تمام طاقتیں خدا تعالیٰ کے لئے مسلم ہیں اور انسان جیسا کہ جسم کے رو سے کمزور ہے روح کے رو سے بھی نا تو ان ہے اور اپنے شجرہ پیدائش کے لئے ہر یک وقت اس لازوال ہستی سے آب پاشی چاہتا ہے جس کے فیض کے بغیر یہ جی ہی نہیں سکتا اس لئے استغفار مذکورہ معانی کے رو سے اس کے لازم حال پڑا ہے اور جیسا کہ چاروں طرف درخت اپنی ٹہنیاں چھوڑتا ہے گویا اردگرد کے چشمہ کی طرف اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا ہے کہ اے چشمہ میری