منن الرحمٰن — Page 246
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۴۶ منن الرحمن ١٠٢ زاد عليها كالحلة و صار سبب كمال الحسن والزينة فسمى لحما بما لوحِم بالعظام لحم عربی میں ایک چیز کے پیوند اور لحوق کو کہتے ہیں جب وہ چیز دوسرے سے ملتی الصلبة وصاربها كذوى اللحمة والسادس خلق آخر و سمى نفسًا لنفاستها ولطافتها اور پیوند کرتی ہے سو سو گوشت کپڑا کی طرح باقی جسم پر ملتا ہے اور نیز اس لئے و سرائتها في الاعضاء وعزّتها۔ وسمى جميعها باسم الجنين۔ فتبارك الله أَحْسَنُ بھی کہ گوشت سخت ہڈیوں سے ملتا ہے اور ان کو باہم ملاتا ہے اور خویشی الخالقين۔ ثم اذا خرج الجنين من بطن الأمة۔ و تولد باذن الله ذي القدرة فسمى قرابت ان میں بخشتا ہے اور چھٹے کو خلق آخر کہا اور اسے کمال نفاست اور وليدا في هذه اللهجة۔ ثم اذا صبا الى ثدى الأم للرضاع فسمى صبيا و رضيعا الى اعضاء میں سرایت کرنے کے سبب سے نفس بھی کہا اور پھر اس سارے مجموعہ کا نام مدى الارضاع۔ ثم بعد الفطام سمى فطيما وقطيعا في هذا اللسان ثم اذا دبّ و نما جنین ہوا پھر جنین جب ماں کے پیٹ سے نکلا تو اس کا نام ولید ہوا پھر جب دودھ و ارى اكثر اثار الحيوان فسمى دارجًا في ذلك الزمان ثم اذا بلغ طوله اربعة اشبار پینے کو پستان مادر کی طرف جھکا تو صبی نام ہوا اور ایام شیر خوارگی تک رضیع فهو رباعي عند اولى الابصار۔ واذا بلغ خمسة فهو خماسي۔ واذا سقطت رواضعه نام ہوا پھر دودھ چھڑانے کے بعد فطيم و قطیع ہوا پھر ذرا نشوونما کے بعد فهو مشغور عند العرب۔ واذا نبتت بعد السقوط فهو ومثغر عند ذوى الادب واذا دارج پھر جو چار بالشت کا ہوا تو رباعی اور جو پانچ کا ہوا تو خماسی اور تجاوز عشر سنين فهو مترعرع عند العربيين۔ واذا شارف الاحتلام وكرب الماء جب دودھ کے دانت جھڑ گئے تو مشغور اور جو پھر اُگے تو مشغر اور جو دس برس کا ہوا ليمـطـر الجهام فهو يـافـع و مـراهـق قـد بـلـغ البلوغ التام۔ واذا احتلم تو مترعرع اور جو احتلام کے قریب پہنچا تو يافع اور مراهق اور جب