منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 581

منن الرحمٰن — Page 227

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۲۷ منن الرحمن و اقیمت مقامها عند هجوم الضرورات۔ قد نطقت بلسان الحال۔ انها ما أبرزت (۸۳) ان کے قائم مقام کی گئی وہ بزبان حال بول رہے ہیں کہ ضرورت کے وقت لئے گئے پس جبکہ ثابت ہو گیا في بزتها الاعند قحط المفردات والامحال۔ فاذا ثبت انها تلفيقات انسانية کہ وہ انسانی جوڑوں سے جمع کئے گئے اور ترکیبات اضطراریہ سے اکٹھے کئے گئے تو وہ اس بے نمونہ وتركيبات اضطرارية فكيف تنسب الى البديع الكامل الذي يسلك سبيل بنانے والے کامل کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے کہ جو اختصار اور حکمت کے طریق کو اختیار کرتا ہے اور الوجازة والحكمة و يحب طريق البساطة والوحدة۔ و لا يلجاء الى تركيبات بساطت اور وحدت کے طریق کو دوست رکھتا ہے اور غافلوں کی طرح نئی نئی ترکیبوں کی طرف محتاج نہیں مستحدثة كالغافلين۔ بل هو الله الذي فطن من اول الامر الى معان مقصودة۔ ہوتا بلکہ وہ خدا و ہی ۔ ا ہے جس کے علم میں پہلے ہی سے معانی مقصودہ ہیں سو اس نے ان کے مقابل پر ہر یک فوضع بازائها كل لفظ مفرد باوضاع محمودة۔ وكذلك سلك سبيل حكمة لفظ مفرد رکھ دیا ۔ سو اسی طرح وہ اپنی حکمت معہودہ کو عمل میں لایا اور وہ ایسا تو نہیں تھا جیسا کہ سونے کے معهودة وما كان كالذي استيقظ بعد النوم او تنبّه بعد اللؤم۔ بل وضع بازاء كل طيف بعد جاگے یا ملامت کے بعد متنبہ ہو بلکہ ہر یک معنوی خیال کے مقابل پر ہر یک لفظ مفرد رکھ دیا ہے جو معنوی لفظا مفردًا ككوكب درى۔ ببيان جلى الا تعرفه وهو احسن الخالقين۔ اتظن | چمکدار موتی کی طرح ہے کیا تو اس کو نہیں پہچا نتا اور وہ احسن الخالقین ہے کیا تو گمان کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان الله نسى سبيل الحكمة او بطأ به مانع من هذه الارادة او ما كان قادرا على وضع حکمت کی راہ کو بھول گیا یا کسی مخالف نے اس کو اس ارادہ سے روک دیا یا وہ معانی مقصودہ کے ظاہر کرنے الالفاظ المفردة لاظهار المعاني المقصودة۔ فالجأه عجزه الى الكلمات المركبة | کے لئے الفاظ مفردہ کے بنانے پر قادر نہیں اس لئے اس کے عجز نے ترکیب اور نئے نئے جوڑوں کی والتركيبات المستحدثة۔ واضطر الى ان يلفق لها الفاظ باستعانة التراكيب| طرف اس کو بے قرار کیا اور وہ اس بات کے لئے مضطر ہوا کہ معانی مقصودہ کے ادا کرنے کے لئے