منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 581

منن الرحمٰن — Page 210

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۱۰ منن الرحمن ٢٢) فثبت ان العربية هي اللسان۔ ولا يوجد في غيرها هذا الشان۔ ففكر ان پس ثابت ہوا کہ حقیقی زبان عربی زبان ہی ہے اور اس کے غیر میں یہ شان پائی نہیں جاتی ۔ كنت من المشككين۔ ومن اجلى العلامات ان اللسان الذي كان من پس اگر تجھے کچھ شک ہے تو شرم کرو ۔ اور یہ بات بہت روشن باتوں میں سے ہے کہ وہ زبان رب الكائنات۔ وكان من احسن اللغات وابهي في الصفات ۔ هو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور درحقیقت عمدہ زبان ہے وہ وہی زبان ہے جس کا اللسان الذي مدحه الله وسماه باسم حسن كما هي سنة ربّ ذي مِنَن۔ خدا تعالیٰ نے آپ تعریف کے ساتھ نام رکھا ۔ جیسا کہ یہی سنت اللہ ہے ۔ پس ایسی زبان کا فانبئوا بذلك اللسان ان كنتم في شك من هذا البيان۔ و لن تجدوا مجھے نشان دو اگر تم اس زبان کے بارے میں شک میں ہو اور ایسا اسم جیسا کہ عربی ہے ہرگز كالعربية اسما في الحسن واللمعان۔ ففى ذلك ايات للمتوسمين۔ نہیں پاؤ گے اور اس میں غور کرنے والوں کے لئے نشان ہیں اور عجم خدا تعالیٰ کے نزدیک واما العجم فهم عند الله كبكم لا لسان لهم۔ او كبهائم لابيان لهم۔ فان ان گونگوں کی طرح ہیں جن کی زبان نہ ہو یا ان چار پا یوں کی طرح جو بول نہ سکیں کیونکہ ان تكلمهم ما حصل لهم الا بالعربية۔ وليس لفظ عندهم الا من هذه کو صرف عربی کے ذریعہ سے بولنا حاصل ہوا ہے اور ان کے پاس بجز اس زبان کے ایک لفظ اللهجة۔ و لا يقدرون من دون العربية على المكالمات۔ فيتحقق حينئذ بھی نہیں اور بجز عربی لفظوں کے بات کرنے پر قادر نہیں ہو سکتے ۔ پس اس وقت ثابت ہوتا ہے انهم كالعجماوات۔ فقابل بوجه طليق او خاصم بلسان ذلیق انک من کہ وہ چارپایوں کی طرح ہیں پس کشادہ زبانی کے ساتھ سامنے آیا تیز زبان کے ساتھ جھگڑ المغلوبين۔ فاوصيك ان تفكر في هذا الدعوى۔ وتذكر قومًا نوكى ان كنت بے شک تو مغلوب ہے پس تو اس دعوی میں غور کر اور بے وقوفوں کو یا د دلا اگر تو عقل مند ہے