منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 581

منن الرحمٰن — Page 182

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۸۲ منن الرحمن ۳۸) و افكر فيهـا بـجـهـد الجنان۔ وازجي نضو التدبر والامعان وادعوا الله ان اور دلی کوشش سے فکر کر رہا تھا اور تدبر اور سوچ کی ڈبلی اونٹنی کو چلا رہا تھا اور خدا تعالیٰ سے مانگ رہا تھا کہ يهديني طرق العرفان ۔ ويتم حجتى على اهل العدوان۔ ويتلافى ماسلف مجھے معرفت کی راہ دکھاوے اور اہل ظلم پر میری حجت کو پوری کرے اور اس ظلم کا تدارک کرے جو زیادتی من جور المعتدين۔ فبينما انا افتش كالكميش وقد حمى وطيس کرنے والوں سے صادر ہو چکا ہے پس اس عرصہ میں جو میں ایک سریع الحرکت انسان کی طرح فکر کر رہا تھا التفتيش وانظر بعض الآيات۔ واتوسم فحواء البينات۔ اذا تلألأت امام اور تفتیش کا تنور گرم تھا اور میں بعض آیتوں کو دیکھتا اور ان کے بینات میں غور کرتا تھا کہ ناگاہ میری آنکھوں عيني آية من آيات الفرقان ۔ و لا كتلالؤ درر العمان۔ فاذا فكرت في کے سامنے ایک آیت قرآن شریف کی چمکی اور وہ ایسی چمک نہ تھی جیسا کہ عمان کے موتیوں کی بلکہ اس سے فحوائها۔ واتبعت انواع ضياءها۔ واجزت حمى ارجائها۔ وافضيت الى بڑھ کر تھی ۔ پس جبکہ میں نے ان آیتوں کے مضمون میں غور کیا اور روشنی کی پیروی کی اور ان کے میدان تک فضائها وجدتها خزينة من خزائن العلوم۔ ودفينة من السر المكتوم۔ پہنچا تو میں نے ان آیتوں کو مخزن علوم پایا اور چھپے ہوئے بھیدوں کا دفینہ دیکھا ۔ سو اس کے دیکھنے نے میرے فهزت عطفى رؤيتها و تجلّت لي كجمرة قوتها۔ واصبى قلبي بازو کو ہلا دیا اور اس کی قوت میرے پر ہزار سوار کی طرح ظاہر ہوئی اور اس کی سبزی اور تازگی نے میرے نضارها ونضرتها ۔ واغتالت العدا كريهتها۔ وسرت مهجتي صرتها دل کو بھینچ لیا اور اس کی لڑائی نے یکدفعہ دشمنوں کو ہلاک کر دیا اور اس کی جماعت نے میرے دل کو خوش کیا سو فحمدلت وشكرت الله ربّ العالمين و رأيت بها ما يملأ العين قرة میں نے الحمد للہ کہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر کیا اور میں نے ان آیات میں وہ عجائبات دیکھے جو آنکھوں کو خنکی سے ويعطى من المعارف دولة۔ ويُسرّ قلوب المسلمين۔ وعلمت من سرّ بھر دیتے ہیں اور معارف کی دولت بخشتے ہیں اور مسلمانوں کے دلوں کو خوش کر دیتے ہیں اور مجھ کو لغتوں کا