منن الرحمٰن — Page 177
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۷۷ منن الرحمن هرات والفتنة تفاقمت ۔ وسهامها من كل جهة مطرت والخباثة (٣٣) اور ہر یک زبان دراز نے بد زبانی کی اور فتنہ بہت بڑھ گیا اور ہر یک طرف سے اس کے تیر بر سے اور پلیدی نے نکاح کر لیا پس اسے تزوجت۔ فحملت وكمثلها اجزء ت۔ فجايأتها المتربة وتواردت والبلاد حمل ٹھہر گیا اور اس نے اپنی شکل جیسی لڑکیاں جنہیں پس وہ فقر وفاقہ ساتھ لائیں اور ملک ویران ہو گیا اور مصیبتوں کے مینہ برسے پس خربت۔ ورهام المصائب تصوّبت فما نجت نفس أيمنت او اشامت او ان مصیبتوں سے کوئی شخص نجات نہ پاسکا خواہ وہ یمن کی طرف گیا یا شام کی طرف یا مکہ اور مدینہ اور ان کے گرد کے دیہات کو دیکھ کر عرضت۔ و ما عصمت من الفقر و ان طهفلت و ما تركها العدا و ان بابأت واپس آیا اور کوئی فاقہ سے نہ بچا اگر چہ وہ چین یا مک کا غلہ کھاتا رہا اور اسی اناج پر ہمیشہ کے لئے قناعت کی اور عہد کے طور پر اسی کا کھانا و کم من نفس ارتدت بعد ما هلهلت و کفرت بعد ما آمنت | معمول رکھا اور دشمنوں نے اسے نہ چھوڑا اگر چہ اس نے کہا کہ میرا باپ تم پر قربان ہو اور بہت سے مرتد ہو گئے اور بعد اس کے کہ وہ وحمدلت ۔ فرأينا في هذه الليلة اللّيلاء۔ ما عرّفنا جهد البلاء وقصصنا کہتے تھے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ دین سے پھر گئے اور ایمان لانے اور الحمد للہ کہنے کے بعد کافر ہو گئے سو ہم نے اس اندھیری رات قصص الاعداء مسترجعين۔ محوقلين۔ والذين يقولون انا نحن علماء میں وہ مصیبتیں دیکھیں جنہوں نے ہمیں سمجھا دیا کہ نہایت سخت بلا اسے کہتے ہیں اور ہم نے یہ سب قصے دشمنوں کے اس حالت میں الاسلام و فحول ملت خير الانام۔ فنراهم الكسالى الأكلين كالانعام۔ لکھے جبکہ ہم انا للہ وانا الیہ راجعون کہتے تھے اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ پڑھتے تھے اور وہ لوگ جو کہتے ہیں جو ہم علماء اسلام ہیں اور نبی کے لا ينصرون الحق بالاقوال والاقلام۔ الا قليل من عباد الله ذي الاكرام۔ دین کے ایک نر عالم ہیں سو ہم ان کو ایک سست الوجود اور چارپایوں کی طرح کھانے پینے والے دیکھتے ہیں وہ اپنی باتوں اور قلموں سے و ترى اكثرهم في حقد اهل الحق كاللئام ۔ ما يجيئهم حق الا يستعير کچھ بھی حق کی مدد نہیں کرتے بجز اللہ جل شانہ کے ان خاص بندوں کے جو تھوڑے ہیں اور اکثر کو تو ایسا پائے گا کہ اہل حق کا کینہ رکھتے بينهم الاصطخاب ولا يدرون ما الحق والصواب لا يمتنعون | ہوں گے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی حق کی بات سن کر ان میں شور و غوغا پیدا نہ ہو وہ نہیں جانتے کہ حق اور صواب کیا چیز ہے وہ فتنہ سے