منن الرحمٰن — Page 157
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۵۷ منن الرحمن احمد عافاه الله و ايد اني كنت مولعا من شرخ الزمان بتحقيق احمد کہتا ہے ( خدا اسے عافیت میں رکھے اور تائید میں رہے) کہ میں اپنے ابتدائی زمانہ سے ہی مذہب کی تحقیق بقیه حاشیه : خیال بھی شرط نہیں اور اس کے مفہوم میں اس سے زیادہ کوئی امر ما خود نہیں کہ وہ نطفہ ڈال دے بلکہ وہ اسی ایک ہی لحاظ سے جو نطفہ ڈالتا ہے لغت کی رو سے اَب یعنی باپ کہلاتا ہے تو کیونکر جائز ہو کہ ایسا ناکارہ لفظ جس کو تمام زبانوں کا اتفاق ناکارہ ٹھہراتا ہے اس قادر مطلق پر بولا جائے جس کے تمام کام کامل ارادوں اور کامل علم اور قدرت کاملہ سے ظہور میں آتے ہیں اور کیوں کر درست ہو کہ وہی ایک لفظ جو بکرا پر بولا گیا۔ بیل پر بولا گیا ۔ سور پر بولا گیا ۔ وہ خدا تعالیٰ پر بھی بولا جائے یہ کیسی بے ادبی ہے جس سے ﴿۱۲﴾ نادان عیسائی باز نہیں آتے نہ ان کو شرم باقی رہی نہ حیا باقی رہی نہ انسانیت کی سمجھ باقی رہی کفارہ کا مسئلہ کچھ ایسا ان کی انسانی قوتوں پر فالج کی طرح گرا کہ بالکل نکما اور بے حس کر دیا۔ اب اس قوم کے کفارہ کے بھروسہ پر یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ اچھا چال چلن بھی ان کے نزدیک بے ہودہ ہے ۔ حال میں یعنی ۲۱ جون ۱۸۹۵ء کو پر چه نو را فشاں لدھیانہ میں جو عیسائی مذہب کا ایک اصول کفارہ کی نسبت چھپا ہے وہ ایسا خطر ناک ہے جو جرائم پیشہ لوگوں کو بہت ہی مدد دیتا ہے۔ اس کا ماحصل یہی ہے کہ ایک سچے عیسائی کو کسی نیک چلنی کی ضرورت نہیں کیونکہ لکھا ہے کہ اعمال حسنہ کو نجات میں کچھ بھی دخل نہیں جس سے صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئی جزو رضا مندی الہی کی جو نجات کی جڑ ہے اعمال سے حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ کفارہ ہی کافی ہے۔ اب سوچنے والے سوچ سکتے ہیں کہ جبکہ اعمال کو الہی رضا مندی میں کچھ بھی دخل نہیں تو پھر عیسائیوں کا چال چلن کیونکر درست رہ سکتا ہے جبکہ چوری اور زنا سے پر ہیز کرنا موجب ثواب نہیں تو پھر یہ دونوں فعل موجب مواخذہ بھی نہیں اب معلوم ہوا کہ عیسائیوں کا بے باک ہو کر بدکاریوں میں پڑنا اسی اصول کی تحریک سے ہے بلکہ اس اصول کی بنا پر قتل و نیز حلف دروغی سب کچھ کر سکتے ہیں کفارہ جو کافی اور ہر یک بدی کا مٹانے والا ہوا ۔ حیف ایسے دین و مذہب پر۔ اب سمجھنا چاہیے کہ اب یا باپ کا لفظ جس کو ناحق بے ادبی کی راہ سے عیسائی نادان خدا تعالیٰ پر اطلاق کرتے ہیں لغات مشتر کہ میں سے ہے یعنی ان عربی لفظوں میں سے ہے جو تمام ان زبانوں میں پائے جاتے ہیں جو عربی کی شاخیں ہیں اور تھوڑے تغیر و تبدل سے ان میں موجود ہیں چنانچہ در حقیقت فادر اور پتا اور