منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 581

منن الرحمٰن — Page 141

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۴۱ منن الرحمن کے متعلق کوئی مبسوط کلام کرنا چاہے تو اس زبان کے مفردات اس کو ایسے طور سے مدد دے سکیں ﴿۱۴﴾ کہ ہر ایک خیال کے مقابل پر جو دل میں پیدا ہوا ایک لفظ مفرد موجود ہو تا یہ امر اس بات پر دلیل ہو کہ جس ذات کامل نے انسان اور اس کے خیالات کو پیدا کیا اسی نے ان خیالات کے ادا کرنے کے لئے قدیم سے وہ مفردات بھی پیدا کر دیئے اور ہمارا دلی انصاف اس بات کے قبول کرنے کے لئے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ اگر یہ خصوصیت کسی زبان میں پائی جائے کہ وہ زبان انسانی خیالات کے قد و قامت کے موافق مفردات کا خوبصورت پیرا یہ اپنے اندر طیار رکھتی ہے اور ہریک باریک فرق جو افعال میں پایا جاتا ہے وہی باریک فرق اقوال کے ذریعہ سے دکھاتی ہے اور اسکے مفردات خیالات کے تمام حاجتوں کے متکفل ہیں تو وہ زبان بلاشبہ الہامی ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے جو اس نے انسان کو ہزار ہا طور کے خیالات کے ظاہر کرنے کے لئے مستعد پیدا کیا ہے۔ پس ضرور تھا کہ انہیں خیالات کے اندازہ کے موافق اس کو ذخیرہ قولی مفردات بھی دیا جاتا تا خد دیا جاتا تا خدا تعالیٰ کا قول اور فعل ایک ہی مرتبہ پر ہولیکن حاجت کے وقت ترکیب سے کام لینا یہ بات کسی خاص زبان سے خصوصیت نہیں رکھتی ۔ ہزار ہا زبانوں پر یہ عام آفت اور نقص در پیش ہے کہ وہ مفردات کی جگہ مرکبات سے کام لیتے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ ضرورتوں کے وقت وہ مرکبات انسانوں نے خود بنا لئے ہیں۔ پس جو زبان ان آفتوں سے محفوظ ہوگی اور اپنی ذات میں مفردات سے کام نکالنے کی خصوصیت رکھے گی اور اپنے اقوال کو خدا تعالیٰ کے فعل کے مطابق یعنی خیالات کے جوشوں کے مطابق اور ان کے ہم وزن دکھلائے گی۔ بلا شبہ وہ ایک خارق العادات مرتبہ پر ہو کر اور تمام زبانوں کی نسبت ایک خصوصیت پیدا کر کے اس لائق ہو جائے گی کہ اس کو اصل الہامی زبان اور فطرت اللہ کہا جائے اور جو زبان اس مرتبہ عالیہ سے مخصوص ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کے منہ سے نکلی اور فوق العادات کمالات سے مختص اور ام الالسنہ ہے اس کی نسبت یہ کہنا ایمانداری کا فرض ہوگا کہ وہی ایک زبان ہے جو حقیقی طور پر اس لائق ٹھہرائی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کا اعلیٰ اور اکمل الہام اسی میں نازل ہو اور دوسرے الہام اس الہام کی ایسی ہی فرع ہیں جیسا کہ دوسری بولیاں اس بولی کی فرع ہیں لہذا ہم اس بحث کے