معیارالمذاہب — Page 298
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۹۸ ضياء الحق ہے ان کو نیک سمجھنا نہایت پلید طبع انسان کا کام ہے ۔ اے پیارے دوستو ! آپ لوگ اس قوم کو اور اس قوم کی جعلسازیوں کو خوب جانتے ہو کہ کہاں تک ان لوگوں کو جھوٹ کی بندشوں میں کمال ہے ۔ پورت صاحب اپنی کتاب مؤید الاسلام میں پادریوں کی مکاریاں نمونہ کے طور پر لکھتے ہیں ۔ کہ ایک بزرگ پادری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح میں ایک کتاب لکھی اور اس میں ایک موقعہ پر بیان کیا کہ گویا نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کبوتر ہلایا ہوا تھا کہ وہ آنجناب کے کانوں پر آکر اپنا منہ رکھ دیتا تھا اور یہ حرکت اس لئے سکھلائی گئی تا لوگ سمجھیں کہ یہ روح القدس ہے کہ وحی پہنچا تا اور ۳۷ خدا تعالیٰ کا پیغام لاتا ہے مگر جب اس پادری کو لوگوں نے سخت پکڑا کہ یہ قصہ تو نے کہاں سے نقل کیا ہے تو اس نے صاف اقرار کیا کہ میں نے عمداً جھوٹ بنایا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس شریر پادری کو اس کبوتر کی نسبت شک ہوگا جو انجیل میں بیان کیا گیا ہے جو تمام عمر میں صرف ایک دفعہ حضرت مسیح پر نازل ہوا تھا ۔ اور پھر کبھی منہ نہ دکھلایا اور کہتے ہیں کہ دراصل وہ کبوتر نہیں تھا بلکہ روح القدس تھا ۔ خیر اس جھگڑے سے تو ہمیں کچھ علاقہ نہیں صرف یہ دکھلا نا منظور ہے کہ اس بدطینت پادری نے یہ افترا اُسی انجیلی قصہ کے تصور سے تراش لیا تھا اگر ایسا خیال حضرت عیسی کی نسبت اس کو پیدا ہوتا تو کچھ بے جا نہ تھا کیونکہ حضرت عیسیٰ کی نسبت ایسا بے ہودہ قصہ انجیلوں میں موجود ہے ۔ جس کا کوئی ثبوت اب تک کسی عیسائی نے نہیں دیا اور نہ وہ کبوتر محفوظ رکھا ۔ اور پادری صاحبوں کی جعلسا زیاں صرف اسی پر بس نہیں بلکہ یہ وہی حضرات ہیں جنہوں نے کئی جعلی انجیلیں بنا