معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 581

معیارالمذاہب — Page 231

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۳۱ منن الرحمن في تلك اللغات۔ فانها لا يوصل الى الغايات۔ ولا تكشف عن ساق معانی (۸۷) سے دھوکا نہ کھانا کہ کچھ کچھ وجوہ تسمیہ ان زبانوں میں موجود ہیں کیونکہ اس قدر پایا جانا اصل مقصود کی طرف رہبر المفردات على سبل اطراد اشتقاق المشتقات ونبش معادن الكلمات۔ بل نہیں ہو سکتا اور مفردات کے معانی کے بھید کو نہیں کھولتا ایسے طور سے کہ الفاظ کا اطراد اشتقاق کر کے دکھلاوے اور هي تفهیم سطحى لخدع ذوى الجهلات وقوم عمين۔ وكلما يردّ لفظ الى کلمات کی کانیں کھو دے بلکہ وہ تو نادانوں کے لئے ایک سرسری سمجھ ہوتی ہے اور اندھوں کو دھوکا دیا گیا ہے ۔ اور منتها مقام الرد ويفتش اصله بالجهد والكد۔ فترى انه عربية ممسوخة جب کوئی ایک لفظ اس کی اصل تلاش کرتے کرتے محنت اور کوشش کے ساتھ انتہائی درجہ تک پہنچایا جاوے پس تو كانها شاة مسلوخة۔ وترى كل مضغة من ابداء عربي مبين ۔ ولا نذكر دیکھے گا کہ وہ عربی مسخ شدہ ہے گویا کہ وہ ایک بکری ہے جس کی کھال اتار لی گئی ہے اور تو ہر ایک اس کے ٹکڑے کو عبرانية ولا سريانية في هذا الكتاب فان اشتراك ذینک اللسانین مسلم عربی کے ٹکڑوں میں سے پائے گا اور ہم عبرانی اور سُریانی کا اس کتاب میں کچھ ذکر نہیں کرتے کیونکہ ان کا عند ذوى الالباب من غير الامتراء والارتياب۔ وانهما محرفتان من العربية اشتراک عقلمندوں کے نزدیک مسلم امر ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ دونوں زبانیں خالص عربی کی تحریف سے الخالصة۔ مع ابقاء اكثر القوانين الادبية والتراكيب المتناسبة وانهم پیدا ہوئی ہیں اور باوجود تحریف کے پھر اکثر قوانین ادبی باقی رہے ہیں اور ایسا ہی اکثر ترکیبیں بھی محفوظ رہی ہیں كالسارقين۔ وكانت دار العربية آنق من حديقة زهر و خميلة شجر ما راى اور یہ چوروں کی طرح ہیں اور عربی کا گھر پھولوں کے باغ اور سبز درختوں کی جھاڑی سے زیادہ خوشنما تھا اور اس اهلها حر الهوى ولا حرق الجوى ذات عقيان وعقار وغرب ونضار کے اہل نے کسی خواہش کی گرمی اور کسی بھوک کی آگ نہیں دیکھی تھی اور یہ کہ صاحب زر اور مال اور چاندی اور وحدائق وانهار ۔ وزهر وثـمـار۔ وعبيد واحـرار۔ وجرد مربوطة۔ وجدة خالص سونے کا مالک تھا اس میں باغ تھے اور اس میں نہریں تھیں اور اس میں پھول تھے اور پھل تھے اور غلام تھے