معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 581

معیارالمذاہب — Page 228

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۲۸ منن الرحمن و يعتمد عليها لا على الطباع العجيب ويسلك مسلک المتکلفین۔ و انت ترکیبوں کے جوڑ توڑ سے مدد لیوے اور ان ترکیبوں پر بھروسہ رکھے نہ مفردات کے طبعی اور عجیب نظام پر اور تکلف کرنے والوں کی راہ پر تراى ان بناء عاقلا ذا معرفة اذا اراد ان يبنى صرحًا في بلدة۔ او قصرًا في جردة ۔ چلے اور تو دیکھتا ہے کہ ایک معمار عقلمند تجربہ کار جبکہ ایک حویلی کے بنانے کا ارادہ کرتا ہے یا کسی زمین پر ایک محل بنانا چاہتا ہے سو وہ اپنے فيفطن في اول امره الى كل ضرورة و ينظر كلما سيحتاج اليه عند سكونة۔ کام کی ابتدا میں اپنی ہر یک ضرورت کو سمجھ جاتا ہے اور ہر یک امر کو جس کے بسنے کے وقت کسی وقت حاجت پڑے گی پہلے سے دیکھ لیتا و ان كان يبنى لغيره فينبهه ان كان في غفلة۔ و لا يعمل عمل العمين بل يتصور في ہے اور اگر کسی غیر کے واسطے وہ مکان بناتا ہے تو اگر وہ غیر غفلت میں ہو تو اس کو خبر دار کر دیتا ہے اور اندھوں کی طرح کوئی کام نہیں کرتا بلکہ قلبه قبل البناء كل ما سيضطر اليه احد من التنّاء كالحجرات والرف و الفناء وہ عمارت بنانے سے پہلے ہی تمام ان باتوں کا اپنے دل میں تصور کر لیتا ہے جن کی طرف اس مکان میں رہنے والوں کو حاجت ہوگی جیسا والمداخل والمخارج للسكناء۔ ومنافذ النور والهواء۔ ومجالس الرجال والنساء۔ کہ تجرے اور مچان اور صحن اور آنے جانے کا مکان اور ہوا اور روشنی کے لئے کھڑکیاں اور روشندان اور مردوں کے بیٹھنے کی جگہ اور عورتوں وبيت الخبز وبيت الخلاء وبيت الأضياف والواردين من الاحباء ومقام السائلين کے رہنے کا مکان اور باورچی خانہ اور پاخانہ اور مہمانوں اور مسافروں اور دوستوں کے رہنے کی جگہ اور سوال کرنے والوں کے لئے والفقراء۔ وما يحتاج اليه في الصيف والشتاء۔ وكذلك لا يغادر حاجة الا و يبنى ٹھہرنے کی جگہ اور ایسے مکان جو گرمی کے موسم کے مناسب حال ہوں اور ایسے مکان جو جاڑے کے لئے ضروری ہوں اسی طرح کوئی لها ما يسدّ ضرورة حجرة كان او عُلّة سُلّما كان او مصطبة۔ او ما يسر القلب ایسی حاجت نہیں ہوتی جس کے رفع کے لئے بقد رسد ضرورت کوئی مکان نہیں بنا تا خواہ وہ حجرہ ہو یا بالا خانہ ہو یا زینہ ہو یا چبوترہ یا کوئی كالبساتين۔ فالحاصل انه يبصر في اول نظره كل ما سَتَؤُولُ اليه لوازم باغ ہو پس حاصل کلام یہ کہ وہ پہلی نظر میں ہی ان تمام امور کو دیکھ لیتا ہے جن کی طرف اس کے امر کے لوازم منجر ہوں گے اور ایسی کسی امره و لا ينسى شيئا سيطلبه احد من زمره ويتم الصرح كالمتدبرين۔ چیز کو نہیں بھولتا جو کوئی اس کے گروہ میں سے کسی وقت اس کا طالب ہو اور اپنے مکان کو ایک مدبر انسان کی طرح پورا کرتا ہے