معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 581

معیارالمذاہب — Page 225

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۲۵ منن الرحمن ان اهل تلك الالسنة والـلـغـات الـمـتـفـرقة۔ قـوم تطاول عليهم زمان الغي ) کہ ان زبانوں اور لغت والی وہ قوم ہے جن پر گمراہی اور خذلان کا لمبازمانہ گذر گیا۔ اور ان کی خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے مدد والخذلان۔ وما اعانتهم يد الرحمان۔ وما وجدوا ما يجد اهل الحق والعرفان۔ نہ کی ۔ اور انہوں نے اس حقیقت کو نہ پایا جو حق اور معرفت کے اہل پاتے ہیں سو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی زبان کو فحلوا السنتهم بايديهم لا بايدى الفياض المنان۔ فكان غاية سعيهم ان ينحتوا آراستہ کیا اور خدا تعالیٰ کے ہاتھوں سے اس زبان سے آرائش نہیں پائی پس ان کی سعی زیادہ سے زیادہ یہ تھی کہ مفردات بازاء مفردات انواع تركيبات۔ ففرحوا بحيلة فاسدة مصنوعة۔ وبعدوا من ثمار کے مقابل پر ترکیبات کو گھڑیں پس وہ ایک حیلہ فاسد بناوٹی کے ساتھ خوش ہو گئے اور ایسے لطیف پھلوں سے دور جا پڑے لطيفة لا مقطوعة ولا ممنوعة نافعة للأكلين۔ فبدت سوئتهم لاجل منقصة جو نہ کاٹے جائیں اور نہ منع کئے جائیں جو عقلمندوں کو نفع دیتے تھے پس باعث ناقص ہونے زبان کے ان کا عیب کھل گیا اللغات۔ وانتقاص المفردات۔ وظهر انهم كانوا كاذبين۔ وكانوا يحمدون اور مفردات کی کمی نے ان کی پردہ دری کی اور یہ بات ظاہر ہو گئی کہ وہ جھوٹے تھے۔ اور وہ لوگ اپنی زبانوں کی ایسے غلو سے السنتهم بصفات لا تستحق بها وكانوا فيها مفرطين فهتك الله اسرارهم تعریف کرتے تھے جن کی وہ حق دار نہیں تھی اور ان بے جا تعریفوں میں حد سے زیادہ گذر گئے تھے سو خدا تعالیٰ نے ان واذاقهم استكبارهم بما كانوا معتدين۔ و تراهم يعادون الحق والفرقان ولا کے پردے پھاڑ دیئے اور ان کو ان کے تکبر کا مزہ چکھایا کیونکہ وہ حد سے زیادہ گذر گئے تھے اور تو انہیں دیکھتا ہے کہ وہ يقبلون المحمود والمشهود والعيان ولا يتركون الحقد والعدوان و يمشون حق اور فرقان کے دشمن ہیں اور کینہ اور ظلم کو نہیں چھوڑتے اور اندھوں کی طرح چلتے ہیں خاص کر کہ ہندو لوگ کہ ان کی كالعمين ۔ سيما الهنود فان سيرتهم الصدود وزادهم العنود وهم المزهوون۔ لا سیرت حق سے روکنا ہے اور ان کا عناد حد سے بڑھ گیا ہے اور تُعجب اور خود پسندی ان میں بہت ہے۔ خدا تعالیٰ سے يخشون ولا يتواضعون ولا يتدبرون كالخاشعين۔ وظنوا ان لغتهم اكمل اللغات۔ نہیں ڈرتے اور نہ تواضع اختیار کرتے ہیں اور نہ ڈرنے والوں کی طرح تدبر کرتے ہیں اور ان کا گمان ہے جو ان کی