معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 581

معیارالمذاہب — Page 223

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۲۳ منن الرحمن و ما كان للاعداء ان يا توا ببرهان على دعواهم۔ او يخرجوا من مثواهم وان هم (۷۹) اور دشمنوں کو یہ توفیق نہیں کہ اپنے دعوئی پر کوئی دلیل لاویں یا اپنی خواب گاہ سے باہر نکلیں اور وہ تو دفن شدہ مردوں کی طرح الا كـالـمـدفـونيـن ومـا تـرى وجه السنهم ببشر يشف ونضرة ترف بل تراها ہیں۔ ان کی زبانوں کا ایسا منہ نہیں جو پورا اور با آب اور بھرا ہوا ہو اور نہ ایسی تازگی جو چمکیلی ہو بلکہ ان زبانوں کو تو ایسا پائے كموماة ليس فيها من غير رمل و حصاة و لا تجد فيها عين ماء معين۔ والذين گا جیسا کہ جنگل بے آب و دانہ جس میں بجز ریت اور سنگریزہ کے اور کچھ نہیں اور ان میں تو پانی صاف کا چشمہ نہیں پائے گا مارسوا اللغات وفتشوها۔ واطلعوا على عجائب العربية و نظروها۔ ورأوا لطائف اور جو لوگ زبانوں کے مشاق اور تفتیش کرنے والے ہیں جو عربی کے عجائبات پر اطلاع رکھتے ہیں جنہوں نے اس کے مفرداتها و وزنوها۔ وشاهدوا ملح مركباتها و ذاقوها۔ فاولئك يعلمون بعلم مفردات دیکھے اور ان کو وزن کیا اور اس کے مرکبات کے ملیح جملوں کا مشاہدہ کیا اور ان کو چکھا سو وہ لوگ علم یقینی سے اس اليقين۔ ويقرّون بالعزم المتين بان العربية متفردة في صفاتها۔ وكاملة في بات کو جانتے اور پختہ عزم سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ عربی اپنی صفات میں یگانہ اور اپنے مفردات میں کامل اور مفرداتها۔ ومعجبة بحسن مركباتها ومُصْبِيَة بجمال فقراتها۔ ولا يبلغها لسان اپنے مرکبات کے حسن میں عجب انگیز اور اپنے فقروں کے جمال کے ساتھ دلکش زبان ہے اور دنیا کی زبانوں میں سے کوئی من الالسن الارضين ويعلمون انها فائزة كل الفوز في نظام المفردات و ما نول زبان اس کے کمال تک نہیں پہنچتی اور وہ لوگ جانتے ہیں کہ عربی مفردات کے نظام میں کمال کے مرتبہ تک پہنچی ہوئی ہے اور کسی لسان ان يساويها في هذه الكمالات و انها كلمة جربت مرارا و سكتت زبان کی مجال نہیں جو اس کے کمالات میں اس کی برابری کر سکے اور یہ ایک ایسا کلمہ ہے جو بارہا آزمایا گیا اور دشمنوں اور شریروں اعداء۔ واشرارًا۔ وذادت كل من صال انكارًا۔ فان كنت تنكر باصرار۔ فات كمثلها کا اس نے منہ بند کر دیا اور ہر یک ایسے شخص کو دفع کیا جو انکار کی راہ سے حملہ آور ہوا۔ پس اگر تو اصرار سے انکار کرتا ہے تو اس کی من اغيار ۔ ولـن تـقـدر ولـو تـمـوت كـجـراد الفلا۔ او تنتحر كالنوکی۔ فلا تكن | مثل دکھلا اور ہرگز تو مثل دکھلا نہیں سکے گا اگرچہ تو جنگل کی ٹڈیوں کی طرح مر جائے یا نادانوں کی طرح خودکشی کرے