معیارالمذاہب — Page 220
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۲۰ منن الرحمن ۷۲ و تقابلتا كجداري باحة فانظر كالمُبصرين۔ و من العجائب انها كانت لسان صحن کے مقابل کی دو دیواریں ہیں ۔ پس تو سو جاکھوں کی طرح دیکھ۔ اور عجائب میں سے یہ بات ہے کہ وہ امیوں کی الأميين۔ و ما كانوا ان يصقلوها كالعُلماء المتبحرين۔ ولم يكن لهم فلسفة زبان ہے اور وہ اس کو علماء متبحر کی طرح صیقل نہیں کرتے تھے۔ اور ان کو یونانیوں کے فلسفہ میں سے کچھ حصہ نہیں تھا اليونانيين۔ و لا فنون الهنود والصينيين۔ ومعذلك نجدها افصح الالسنة اور نہ ہندوؤں اور چینیوں کے ان کے پاس علوم تھے اور با وصف اس کے ہم اس زبان کو حکماء کے نازک خیالوں لتعبير خواطر الحكماء و اراء ة صور اراء اهل الاراء كانها تصورها كما کے ادا کرنے اور ہر یک رائے کی صورت دکھلانے کے لئے تمام زبانوں سے زیادہ فصیح پاتے ہیں گویا یہ زبان ان يُصوّر في البطن الجنين۔ و من فضائلها انها ما مدت قط يد المسئلة الى | خیالات کی ایسی تصویر کھینچتی ہے جیسا کہ جنین کی تصویر پیٹ میں کھینچی جاتی ہے اور اس کی فضیلتوں میں سے ایک یہ الاغيار ۔ و ما زينها احد من الحكماء والاحبار۔ و ليست عليها منة احد من | ہے کہ اس نے کبھی غیر کی طرف سوال کا ہاتھ لمبا نہیں کیا اور کسی حکیم اور دانشمند نے اس کو زینت نہیں دی اور اس پر دون القادر الجبار۔ هو الذى اكملها بيد الاقتدار و صانها من كل مكروه في سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کا احسان نہیں ۔ اسی ذات نے اس کو اپنے ہاتھ سے کامل کیا ہے اور ہر ایک ایسی حالت الانظار۔ وعصمها من موجبات الملال والاستحسار۔ فهي ربيبة خدر الازل سے بچایا ہے جن سے نظریں کراہت کرتی ہیں اور تھکنے اور ملال کے موجبات سے اس کو محفوظ رکھا ہے پس یہ بولی كالبنات وكقاصرات الطرف والقانتات۔ وهي حاملة باجنة الحكم والنكات۔ لا پردہ ازل کی خانہ پروردہ ہے جیسا کہ لڑکیاں اور پر ہیز گار بیویاں ہوتی ہیں اور یہ بولی طرح طرح کی حکمتوں اور تسمع صوتها في مجمع الهاذين والحكمة تبرق من اسرة وجهها بنور يزين۔ معارف دقیقہ کے ساتھ حاملہ ہے بے ہودہ گوئیوں کا مجمع اس کی آواز نہیں سنتا اور خدا تعالیٰ نے اس کی سرشت کو والله احسن خلقها كخلق الانسان۔ واعطاها كل ما هو من كمال اللسان | ایسا ہی نیک پیدا کیا ہے جیسا کہ انسان کی سرشت کو اور جو زبان کا کمال ہونا چاہئے سب کچھ اس کو عطا کیا