مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 61

روحانی خزائن جلد ۱۵ ٦١ مسیح ہندوستان میں اس قرابا دین کا جس میں مرہم عیسی تھی ترجمہ کیا تو عقلمندی سے شلیخا کے لفظ کو جو ایک یونانی لفظ ۵۹) ہے جو باراں کو کہتے ہیں بعینہ عربی میں لکھ دیا تا اس بات کا اشارہ کتابوں میں قائم رہے کہ یہ کتاب یونانی قرابادین سے ترجمہ کی گئی۔ اسی وجہ سے اکثر ہر ایک کتاب میں شلیخا کا لفظ بھی لکھا ہوا پاؤ گے۔ اور یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اگر چہ پرانے سکے بڑی قابل قدر چیزیں ہیں اور ان کے ذریعہ سے بڑے بڑے تاریخی اسرار کھلتے ہیں لیکن ایسی پرانی کتابیں جو مسلسل طور پر ہر صدی میں کروڑہا انسانوں میں مشہور ہوتی چلی آئیں اور بڑے بڑے مدارس میں پڑھائی گئیں اور اب تک درسی کتابوں میں داخل ہیں ان کا مرتبہ اور عزت ان سکوں اور کتبوں سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے کیونکہ کتبوں اور سکوں میں جعل سازی کی بھی گنجائشیں ہیں لیکن وہ علمی کتابیں جو اپنے ابتدائی زمانہ میں ہی کروڑہا انسانوں میں مشہور ہوتی چلی آئی ہیں اور ہر ایک قوم ان کی محافظ اور پاسبان ہوتی رہی ہے اور اب بھی ہے۔ ان کی تحریر میں بلا شبہ ایسی اعلیٰ درجہ کی شہادتیں ہیں جو سکوں اور کتبوں کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیں ۔ اگر ممکن ہو تو کسی سکہ یا کتبہ کا نام تو لو جس نے ایسی شہرت پائی ہو جیسا کہ بوعلی سینا کے قانون نے ۔ غرض مرہم عیسی حق کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان شہادت ہے۔ اگر اس شہادت کو قبول نہ کیا جائے تو پھر دنیا کے تمام تاریخی ثبوت اعتبار سے گر جاویں گے کیونکہ اگر چہ اب تک ایسی کتابیں جن میں اس مرہم کا ذکر ہے قریباً ایک ہزار ہیں یا کچھ زیادہ لیکن کروڑ ہا انسانوں میں یہ کتابیں اور ان کے مؤلف شہرت یافتہ ہیں ۔ اب ایسا شخص علم تاریخ کا دشمن ہوگا جو اس بدیہی اور روشن اور پر زور ثبوت کو قبول نہ کرے۔ اور کیا یہ حکم پیش کیا جا سکتا ہے کہ اس قدر عظیم الشان ثبوت کو ہم نظر انداز کر دیں اور کیا ہم ایسے بھاری ثبوت پر بدگمانی کر سکتے ہیں جو یورپ اور ایشیا پر دائرہ کی