مسیح ہندوستان میں — Page 549
روحانی خزائن جلد ۱۵ لدما تحفہ غزنویه سے الہام پا کر ایک پیشگوئی اپنی کتابوں میں شائع کی تھی کہ عبد الحق غزنوی نہیں مرے گا جب تک میرا چوتھا بیٹا پیدا نہ ہو۔ سو الحمد للہ کہ وہ بھی تمہاری زندگی میں ہی پیدا ہو گیا جس کا نام مبارک احمد ہے اور اسی طرح سو کے قریب اور نشان ظاہر ہوا اور عزت پر عزت حاصل ہوتی گئی یہاں تک کہ دشمنوں نے میری عزت کو اپنے لئے ایک عذاب 19 دیکھ کر درد حسد سے مقدمات بھی بنائے لیکن ہر میدان میں مخذول اور مردودرہے۔ اب بتلاؤ کہ تمہیں مباہلہ کے بعد کونسی عزت اور قبولیت ملی اور کس قدر جماعت نے تمہاری بیعت کی اور کس قد رفتوحات مالی نصیب ہوئیں اور کس قدر اولاد ہوئی بلکہ تمہارا مباہلہ تو تمہاری جماعت کے مولوی عبدالواحد کو بھی لے ڈوبا اور اس کی بھی بیوی کے فوت ہونے سے خانہ بربادی ہوئی ۔ مجھے خدا نے وعدہ دیا تھا کہ مباہلہ کے بعد دو اور لڑکے تمہارے گھر پیدا ہوں گے سو دو اور پیدا ہو گئے اور وہ دونوں پیشگوئیاں جو صد ہا انسانوں کو سنائی گئی تھیں پوری ہو گئیں ۔ اب بتلاؤ کہ تمہاری پیشگوئیاں کہاں گئیں ۔ ذرہ جواب دو کہ اس فضول گوئی کے بعد کس قدر لڑ کے پیدا ہوئے۔ ذرہ انصاف سے کہو کہ جبکہ تم منہ سے دعوے کر کے اور اشتہار کے ذریعہ سے لڑکے کی شہرت دے کر پھر صاف نا مراد اور خائب و خاسر رہے ۔ کیا یہ ذلت تھی یا عزت تھی ؟ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ مباہلہ کے بعد جو کچھ قبولیت مجھ کو عطا ہوئی وہ سب تمہاری ذلت کا موجب تھی ۔ قوله - کیا آتھم اور داماد مرزا احمد بیگ اور آپ کے فرزند موعود کا کوئی نتیجہ ظہور میں آیا۔ اقول ۔ ہزار ہا دانشمند انسان اس بات کو مان گئے ہیں کہ آتھم پیشگوئی کے مطابق مرگیا اور اگر زندہ ہے تو پیش کرو اور اگر یہ کہو کہ میعاد کے اندر فوت نہیں ہوا