مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 467 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 467

روحانی خزائن جلد ۱۵ ٤٦٧ تریاق القلوب اور ثابت قدمی اور روحانی زندگی اور استقامت اور اخلاق نبوت عطا کرتا ہے۔اس لئے وہ معمولی دنیا داروں کی طرح اس مالی صدمہ کی برداشت نہ کر سکے اور اسی غم سے دن بدن کوفتہ ہو کر ان کی روح تحلیل ہوتی گئی یہاں تک کہ یہ مردار دنیا جس کو وہ بڑا مدعا سمجھتے تھے ایک دم میں ان سے جدا ہو گیا گویا وہ کبھی دنیا میں نہیں آئے تھے مگر افسوس یہ ہے کہ جیسا کہ عموم اور صدمہ مالی کے وقت میں دلی کمزوری ان سے ظہور میں آئی اور اس مصیبت سے غشی بھی ہو گئی اور آخر اسی میں انتقال فرما گئے ۔ ایسا ہی دوسرے پہلو کی وجہ سے یعنی جب اُن کو دنیا کی عزت اور مرتبت اور عروج اور ناموری حاصل ہوئی تو ان ایام میں بھی ان سے اس دوسرے رنگ میں سخت کمزوری ظہور میں آئی ان کے وقت میں خدا نے یہ آسمانی سلسلہ پیدا کیا مگر اُنہوں نے اپنی دنیوی عزت کی وجہ سے اس سلسلہ کو ایک ذرہ عظمت کی نظر سے نہیں دیکھا بلکہ اپنے ایک خط میں کسی اپنے رو آشنا کو لکھا کہ یہ شخص جو ایسا دعویٰ کرتا ہے بالکل پیچ ہے اور اس کی تمام کتا بیں لغو اور بے سود اور باطل ہیں اور اس کی تمام باتیں ناراستی سے بھری ہوئی ہیں ۔ حالانکہ سرسید صاحب اس بات سے بکلی محروم رہے کہ کبھی میرے کسی چھوٹے سے رسالہ کو بھی اوّل سے آخر تک دیکھیں وہ غصے کے وقت میں دنیوی رعونت سے ایسے مدہوش تھے کہ ہر ایک کو اپنے پیروں کے نیچے کچلتے تھے اور یہ دکھلاتے تھے کہ گویا ان کو دنیوی حیثیت کے رو سے ایسا عروج ہے کہ ان کا کوئی بھی ثانی نہیں ۔ ہنسی اور ٹھٹھا کرنا اکثر ان کا شیوہ تھا ۔ جب میں ایک دفعہ علی گڑھ میں گیا تو مجھ سے بھی اسی رعونت کی وجہ سے جس کا محکم پودہ ان کے دل میں مستحکم ہو چکا تھا ہنسی ٹھٹھا کیا اور یہ کہا کہ ” آؤ میں مرید بنتا ہوں اور آپ مرشد بنیں اور حیدرآباد میں چلیں اور کچھ جھوٹی کرامات