مسیح ہندوستان میں — Page 16
۱۳ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۶ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مسیح ہندوستان میں صرف پہلا باب جاننا چاہیے کہ اگر چہ عیسائیوں کا یہ اعتقاد ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام یہودا اسکر یوطی کی شرارت سے گرفتار ہو کر مصلوب ہو گئے اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے۔ لیکن انجیل شریف پر غور کرنے سے یہ اعتقاد سراسر باطل ثابت ہوتا ہے۔ متی باب ! آیت ۴۰ میں لکھا ہے کہ جیسا کہ یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے۔ گا۔ اب ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا۔ اور اگر زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تھا تو بیہوشی اور غشی تھی۔ اور خدا کی پاک کتابیں یہ گواہی دیتی ہیں کہ یونس خدا کے فضل سے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور زندہ نکلا ۔ اور آخر قوم نے اس کو قبول کیا ۔ پھر اگر حضرت مسیح علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں مر گئے تھے تو مردہ کو زندہ سے کیا مشابہت اور زندہ کو مردہ سے کیا مناسبت ؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ چونکہ مسیح ایک نبی صادق تھا اور جانتا تھا کہ وہ خدا جس کا وہ پیارا تھا لعنتی موت سے اس کو بچائے گا۔ اس لئے اس نے خدا سے الہام پا کر پیشگوئی کے طور پر یہ مثال بیان کی تھی اور اس مثال میں جتلا دیا تھا کہ وہ صلیب پر نہ مرے گا اور نہ لعنت کی لکڑی پر اس کی جان نکلے گی بلکہ یونس نبی کی طرح صرف غشی کی حالت ہوگی ۔ اور مسیح نے اس مثال میں یہ بھی اشارہ کیا تھا کہ وہ زمین کے پیٹ سے نکل کر پھر قوم سے ملے گا کا تب کی غلطی سے پہلے ایڈیشن میں مچھلی لکھا گیا۔ اصل میں زمین ہے۔ (شمس)