مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 446 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 446

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۴۶ تریاق القلوب جو مولوی محمد حسین جیسی شان اور عزت کا آدمی ہو اُس کی ذلت کسی قسم کی بے عزتی میں متصور ہے۔ اب تک تو ہم یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ شریف اور معزز انسانوں کی عزت نہایت نازک ہوتی ہے اور تھوڑی سی کسر شان سے عزت میں فرق آجاتا ہے۔ مگر اب میاں ثناء اللہ صاحب کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام قابل شرم امور سے مولوی صاحب موصوف کی عزت میں کچھ بھی فرق نہیں آیا ۔ پس اس صورت میں ہم اس انکار کا کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے جب تک کہ میاں ثناء اللہ کھول کر ہمیں نہ بتلا دیں کہ کس قسم کی ذلت ہونی چاہیے تھی جس سے موحدین کے اس ایڈوکیٹ کی عزت میں فرق آجاتا ۔ اگر وہ معقول طور پر ہمیں سمجھا دیں گے کہ شریفوں اور معززوں اور ایسے نامی علماء کی ذلت اس قسم کی ہونی ضروری ہے تو اس صورت میں اگر ہماری پیشگوئی کے رو سے وہ خاص ذلت نہیں پہنچی جو پہنچنی چاہیے تھی تو ہم اقرار کر دیں گے کہ ابھی پیشگوئی پورے طور پر ظہور میں نہیں آئی لیکن اب تک تو ہم مولوی محمد حسین کی عالمانہ حیثیت پر نظر کر کے یہی سمجھتے ہیں کہ پیشگوئی ان کی حیثیت کے مطابق اور نیز الہامی شرط کے مطابق پورے طور پر ظہور میں آچکی۔ مدت ہوئی کہ ہمیں ان تمام مولویوں سے ترک ملاقات ہے ہمیں کچھ بھی معلوم نہیں کہ یہ لوگ اپنی بے عزتی کس حد کی ذلت میں خیال کرتے ہیں اور کس حد کی ذلت کو ہضم کر جاتے ہیں۔ میاں ثناء اللہ کو اعتراض کرنے کا بیشک حق ہے مگر ہم جواب دینے سے معذور ہیں جب تک وہ کھول کر بیان ☆ حمد الہامی شرط یہ تھی کہ محمد حسین اور اُس کے دور فیقوں کی ذلت صرف اسی قسم کی ہوگی جس قسم کی ذلت اُنہوں نے پہنچائی تھی جیسا کہ الہام مندرجہ اشتہا ر ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کے اس فقرہ سے ظاہر ہے کہ جزاء سيئة بمثلها وترهقهم ذلّة ۔ پس الها می شرط کو نظر انداز کر کے اعتراض اٹھانا نادان متعصبوں کا کام ہے نہ عقلمندوں اور منصفوں کا۔ منہ