مسیح ہندوستان میں — Page 14
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۴ مسیح ہندوستان میں ۱۲ کروی شکل پر پیدا کر کے اپنے قانون قدرت میں یہ ہدایت منقوش کی کہ اس کی ذات میں کرویت کی طرح وحدت اور یک جہتی ہے اس لئے بسیط چیزوں میں سے کوئی چیز سہ گوشہ پیدا نہیں کی گئی یعنی جو کچھ خدا کے ہاتھ سے پہلے پہلے نکلا جیسے زمین ، آسمان ، سورج، چاند اور تمام ستارے اور عناصر وہ سب کروی ہیں جن کی کرویت توحید کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ سو عیسائیوں سے سچی ہمدردی اور سچی محبت اس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں کہ اس خدا کی طرف ان کو رہبری کی جائے جس کے ہاتھ کی چیزیں اس کو تثلیث سے پاک ٹھہراتی ہیں۔ اور مسلمانوں کے ساتھ بڑی ہمدردی یہ ہے کہ ان کی اخلاقی حالتوں کو درست کیا جائے اور ان کی ان جھوٹی امیدوں کو کہ ایک خونی مہدی اور مسیح کا ظاہر ہونا اپنے دلوں میں جمائے بیٹھے ہیں جو اسلامی ہدایتوں کی سراسر مخالف ہیں زائل کیا جائے۔ اور میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ حال کے بعض علماء کے یہ خیالات کہ مہدی خونی آئے گا اور تلوار سے اسلام کو پھیلائے گا یہ تمام خیالات قرآنی تعلیم کے مخالف اور صرف نفسانی آرزوئیں ہیں اور ایک نیک اور حق پسند مسلمان کے لئے ان خیالات سے باز آجانے کے لئے صرف اسی قدر کافی ہے کہ قرآنی ہدایتوں کو غور سے پڑھے اور ذرہ ٹھہر کر اور فکر اور سوچ سے کام لے کر نظر کرے کہ کیونکر خدائے تعالیٰ کا پاک کلام اس بات کا مخالف ہے کہ کسی کو دین میں داخل کرنے کے لئے قتل کی دھمکی دی جائے ۔ غرض یہی ایک دلیل ایسے عقیدوں کے باطل ثابت کرنے کے لئے کافی ہے لیکن تاہم میری ہمدردی نے تقاضا کیا کہ تاریخی واقعات و غیره روشن ثبوتوں سے بھی مذکورہ بالا عقائد کا باطل ہونا ثابت کروں ۔ سو میں اس کتاب میں یہ ثابت کروں گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے اور نہ کبھی امید رکھنی چاہیے کہ وہ پھر زمین پر آسمان سے نازل ہوں گے بلکہ وہ ایک سو بیس برس کی عمر پا کر سرینگر کشمیر میں فوت ہو گئے اور سرینگر محلہ خان یار میں ان کی قبر ہے۔ اور میں نے صفائی بیان کے لئے اس تحقیق کو دس باب اور ایک خاتمہ پر منقسم کیا ہے ۔ (۱) اول وہ شہادتیں جو اس بارے میں انجیل سے ہم کو ملی ہیں ۔ (۲) دوم وہ شہادتیں جو اس بارے میں