مسیح ہندوستان میں — Page 414
۱۲۱ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۸ ۴۱۴ تریاق القلوب دولت علیہ ترکیہ مقیم ہند کو دیا تھا معلوم ہوتا ہے کہ ہر زیر چندہ تمام و کمال قسطنطنیہ میں نہیں پہنچا۔ اور اس امر کے باور کرنے کی یہ وجہ ہوتی ہے کہ حسین یک کامی وائس قونصل مقیم کرانچی کو جو ایک ہزار چھ سو روپیہ کے قریب مولوی انشاء اللہ صاحب ایڈیٹر اخبار وکیل امرتسر اور مولوی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار لاہور نے مختلف مقامات سے وصول کر کے بھیجا تھا وہ سب غبن کر گیا ایک کوڑی تک قسطنطنیہ میں نہیں پہنچائی مگر خدا کا شکر ہے کہ سلیم پاشا ملحمہ کا رکن کمیٹی چندہ کو جب خبر پہنچی تو اُس نے بڑی جاں فشانی کے ساتھ اس روپیہ کے اگلوانے کی کوشش کی اور اُس کی اراضی مملوکہ کو نیلام کرا کر وصولی رقم کا انتظام کیا اور باب عالی میں غبن کی خبر بھجوا کر نوکری سے موقوف کرایا۔ اس لئے ہندوستان کے جملہ اصحاب جرائد کی خدمت میں التماس ہے کہ وہ اِس اعلان کو قومی خدمت سمجھ کر چار مرتبہ متواتر اپنے اخبارات میں مشتہر فرمائیں اور جس وقت اُن کو معلوم ہو کہ فلاں شخص کی معرفت اس قدر روپیہ چندہ کا بھیجا گیا تو اس کو اپنے جریدہ میں مشتہر کرائیں اور نام مع عنوان کے ایسا مفصل لکھیں کہ بشرط ضرورت اس سے خط و کتابت ہو سکے ۔ اور ایک پرچہ اس جریدہ کا خاکسار کے پاس بمقام قاہرہ اِس پتہ سے روانہ فرماویں :۔ حافظ عبد الرحمن الہندی الامرتسری ۔ سکہ جدیدہ ۔ وکالہ صالح آفندی قاہرہ (ملک مصر ) اور منجملہ ان نشانوں کے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے ہاتھ پر ظہور میں آئے ہیں یہ ہے کہ جب کتاب امهات المؤمنين عیسائیوں کی طرف سے