مسیح ہندوستان میں — Page 3
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳ مسیح ہندوستان میں بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَتِحِيْنَ اے ہمارے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے دیباچه اس کتاب کو میں اس مراد سے لکھتا ہوں کہ تا واقعات صحیحہ اور نہایت کامل اور ثابت شدہ تاریخی شہادتوں اور غیر قوموں کی قدیم تحریروں سے اُن غلط اور خطر ناک خیالات کو دور کروں جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے اکثر فرقوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی پہلی اور آخری زندگی کی نسبت پھیلے ہوئے ہیں۔ یعنی وہ خیالات جن کے خوفناک نتیجے نہ صرف توحید باری تعالیٰ کے رہزن اور غارت گر ہیں بلکہ اس ملک کے مسلمانوں کی اخلاقی حالت پر بھی ان کا نہایت بد اور زہر یلہ اثر متواتر مشاہدہ میں آ رہا ہے اور ایسی بے اصل کہانیوں اور قصوں پر اعتقاد رکھنے سے بداخلاقی اور بداندیشی اور سخت دلی اور بے مہری کی روحانی بیماریاں اکثر اسلامی فرقوں میں پھیلتی جاتی ہیں اور ان کی صفت انسانی ہمدردی اور رحم اور انصاف اور انکسار اور تواضع کی پاک صفات اس قدر روز بروز کم ہوتی جاتی ہیں کہ گویا وہ اب جلد تر الوداع کہنے کو تیار ہیں۔ اس سخت دلی اور بداخلاقی نوٹ:۔ کتاب مسیح ہندوستان میں کے متن میں جن انگریزی کتب اور ان کے مصنفین کے نام دیئے گئے ہیں ۔ صحت تلفظ کے لئے انہیں حاشیہ میں انگریزی میں دیا گیا ہے (ناشر)