مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 290

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۹۰ تریاق القلوب سو جب میں نے اس کے بارے میں توجہ کی تو بلا توقف یہ الہام ہوا۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ تب میں نے اس کو کہہ دیا کہ یہ کام ہرگز نہیں ہوگا اور آخر کار ایسا ہی ظہور میں آیا اور کچھ ایسے موانع آپڑے کہ وہ کام ہوتا ہوتا رہ گیا ۔ اس پیشگوئی کا گواہ خود میاں عبد اللہ سنوری اور شیخ حامد علی ساکن تھہ غلام نبی ہے جس کا کئی مرتبہ اس رسالہ میں ذکر آیا ہے یہ دونوں صاحب حلفاً یہ گواہی دے سکتے ہیں مگر حلف حسب نمونہ نمبر ۲ کے ہوگی ۔ ہمارے ہی غور وفکر کا نتیجہ ہے تو سخت جائے افسوس ہے کیونکہ وہ اس خیال کی شامت سے اسلام کی اونچی چوٹی سے ایسا نیچے کو گرے گا کہ صرف کفر اور ارتداد تک ہی نہیں تھے گا بلکہ نیچے کو لڑھکتا لڑھکتا دہریت کے نہایت عمیق گڑھے میں اپنے بد بخت وجود کو ڈال دے گا ۔ وجہ یہ کہ اجتہادی غلطیاں کیا پیشگوئیوں کے سمجھنے اور ان کا مصداق ٹھہرانے میں اور کیا دوسری تدبیروں اور کاموں میں ہر ایک نبی اور رسول سے ہوئی تھیں اور ایک بھی نبی ان سے باہر نہیں گو ان پر قائم نہیں رکھا گیا ۔ اب جبکہ اجتہادی غلطی ہر ایک نبی اور رسول سے بھی ہوئی ہے تو ہم بطریق تنزل کہتے ہیں کہ اگر ہم سے کوئی اجتہادی غلطی ہوئی بھی تو وہ سنت انبیاء ہے اور اس بنا پر حملہ کرنا سرا سر حماقت اور نادانی ہے ۔ ہاں اگر ہمارا کوئی ایسا الہام پیش کر سکتے ہو جس کا یہ مضمون ہو کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ضرور پہلے ہی حمل سے وہ با برکت اور آسمانی موعود پیدا ہو جائے گا اور یا یہ کہ دوسرے حمل میں پیدا ہو گا اور بچپن میں نہیں مرے گا تو تمہیں خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ وہ الہام پیش کر و ۔ تا سیہ روئے شو د ہر کہ در وغش باشد ۔ اور ے ر ا گست ۷ ۱۸۸ء کا اشتہا ر دیانت دار کے لئے کافی نہیں ہوگا کیونکہ اس میں بابرکت اور آسمانی موعود کی خدا تعالٰی کی طرف سے کوئی پیشگوئی نہیں ہے اور مجرد موعود کی پیشگوئیاں اس جگہ بطور دلیل کے کام نہیں آ سکتیں کیونکہ ہر ایک لڑکا جو میرے گھر میں اس بیوی سے پیدا ہوا بقیه حاشیه متعلق نمبر ۵۰ ۷۲