مسیح ہندوستان میں — Page 105
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۰۵ مسیح ہندوستان میں طبعی انسان کے موسم سرما کے جلسہ میں ابھی سنایا جانا ہے ۔ ہم وہ مکمل مضمون ذیل میں درج ۱۰۳ کرتے ہیں۔ ہندوستان کی مغربی سرحد کے پٹھان یا پکٹان باشندوں کا حال قدیمی تاریخوں میں موجود ہے اور بہت سے فرقوں کا ذکر ہیروڈوٹس نے اور سکندر اعظم کے تاریخ نویسوں نے کیا ہے ۔ وسطی زمانہ میں اس پہا وسطی زمانہ میں اس پہاڑ کا غیر آباد اور ویرانہ کا نام روہ تھا۔ اور اس علاقہ کے باشندوں کا نام رہیلہ تھا اور اس میں شک نہیں کہ یہ رہیلے یا پٹھان قوم افغانان کے نام و نشان سے پہلے ان علاقوں میں آباد تھے ۔ اب سارے افغان پٹھانوں میں شمار کئے جاتے ہیں کیونکہ وہ پٹھانی زبان یعنی پشتو بولتے ہیں لیکن وہ ان سے کسی رشتہ کا اقرار نہیں کرتے ۔ اور ان کا دعویٰ ہے کہ ہم بنی اسرائیل ہیں یعنی ان فرقوں کی اولاد ہیں جن کو بخت نصر قید کر کے بابل لے گیا تھا ۔ مگر سب نے پشتو زبان کو اختیار کر لیا ہے ۔ اور سب اسی مجموعہ قوانین ملکی کو مانتے ہیں جس کا نام پکستان والی ہے اور جس کے بہت سے قواعد پرانی موسوی شریعت سے عجیب طور پر مشابہت رکھتے ہیں اور بعض اقوام راجپوت کے پرانے رسم ورواج سے بھی ملتے جلتے ہیں ۔ اگر ہم اسرائیلی آثار کوز پر نظر رکھ کر دیکھیں تو ظاہر ہوگا کہ پٹھانوں کی قو میں دو بڑے حصوں میں منقسم ہو سکتی ہیں یعنی اول وہ فرقے ہندی الاصل ہیں جیسے وزیری، آفریدی، اورک زئی وغیرہ۔ دوسرے افغان جو سامی (SEMITIC ) ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور سرحد پر زیادہ آبادی انہی کی ہے۔ اور کم سے کم یہ ممکن ہے کہ پکٹان والی جو ایک غیر مکتوب ضابطہ قواعد ملکی ہے۔ سب کا مل کر تیار ہوا ہے اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ موسوی احکام راجپوتی رسوم سے ملے ہوئے ہیں جن کی ترمیم اسلامی رسوم نے کی ہے ۔ وہ افغان جو اپنے تئیں درانی کہلاتے ہیں اور جب سے کہ درانی سلطنت کی بنیاد پڑی ہے یعنی ۱۵۰ سال سے اپنے تئیں درانی ہی نامزد کرتے آئے ہیں کہتے ہیں کہ وہ اصلاً اسرائیلی فرقوں کی اولاد سے ہیں اور ان کی نسل کش ( قیس )