مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 87

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۸۷ مسیح ہندوستان میں اٹھے اور تلاش کرے ۔ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان پر جانا گو ایک غلطی تھی تب بھی اس میں ایک ۸۵﴾ راز تھا اور وہ یہ کہ جو مسیحی سوانح کی حقیقت گم ہوگئی تھی اور ایسی نابود ہو گئی تھی جیسا کہ قبر میں مٹی ایک جسم کو کھا لیتی ہے وہ حقیقت آسمان پر ایک وجود رکھتی تھی اور ایک مجسم انسان کی طرح آسمان میں موجود تھی اور ضرور تھا کہ آخری زمانہ میں وہ حقیقت پھر نازل ہو۔ سو وہ حقیقت مسیحیہ ایک مجسم انسان کی طرح اب نازل ہوئی اور اس نے صلیب کو توڑا اور دروغگو ئی اور ناحق پرستی کی بری خصلتیں جن کو ہمارے پاک نبی نے صلیب کی حدیث میں خنزیر سے تشبیہ دی ہے صلیب کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ایسی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں جیسا کہ ایک خزر بر تلوار سے کاٹا جاتا ہے۔ اس حدیث کے یہ معنی صحیح نہیں ہیں کہ مسیح موعود کافروں کو قتل کرے گا اور صلیبوں کو توڑے گا بلکہ صلیب توڑنے سے مراد یہ ہے کہ اس زمانہ میں آسمان اور زمین کا خدا ایک ایسی پوشیدہ حقیقت ظاہر کر دے گا کہ جس سے تمام صلیبی عمارت یکد فعہ ٹوٹ جائے گی ۔ اور خنزیروں کے قتل کرنے سے نہ انسان مراد ہیں نہ خنزیر بلکہ خنزیروں کی عادتیں مراد ہیں یعنی جھوٹ پر ضد کرنا اور بار بار اس کو پیش کرنا جو ایک قسم کی نجاست خوری ہے پس جس طرح مرا ہوا خنز پر نجاست نہیں کھا سکتا اسی طرح وہ زمانہ آتا ہے بلکہ آ گیا کہ بُری خصلتیں اس قسم کی نجاست خوری سے روکی جائیں گی۔ اسلام کے علماء نے اس نبوی پیشگوئی کے سمجھنے میں غلطی کھائی ہے اور اصل معنے صلیب توڑنے اور خنز بر قتل کرنے کے یہی ہیں جو ہم نے بیان کر دیئے ہیں ۔ یہ بھی تو لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور آسمان سے ایسی روشن سچائیاں ظاہر ہو جائیں گی کہ حق اور باطل میں ایک روشن تمیز دکھلا دیں گی ۔ پس یہ خیال مت کرو کہ میں تلوار چلانے آیا ہوں ۔ نہیں بلکہ تمام تلواروں کو میان میں کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں ۔ دنیا نے بہت کچھ اندھیرے میں کشتی کی۔ بہتوں نے اپنے سچے خیر خواہوں پر حربے چلائے اور اپنے