مسیح ہندوستان میں — Page 84
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۸۴ مسیح ہندوستان میں ۸۲ سیاہ رنگ تھے اور گوتم بدھ خود سیاہ رنگ تھا۔ اس لئے بدھ نے آنے والے بدھ کی قطعی علامت ظاہر کرنے کے لئے دو باتیں اپنے مریدوں کو بتلائی تھیں ۔ ایک یہ کہ وہ بگوا ہو گا ۔ دوسرے یہ کہ ۵۰۰ ☆ وہ متیا ہو گا یعنی سیر کرنے والا ہوگا اور باہر سے آئے گا ۔ سو ہمیشہ وہ لوگ انہی علامتوں کے منتظر تھے جب تک کہ انہوں نے حضرت مسیح کو دیکھ لیا۔ یہ عقیدہ ضروری طور پر ہر ایک بدھ مذہب والے کا ہونا چاہیے کہ بدھ سے پانسو برس بعد بگوا متیا ان کے ملک میں ظاہر ہوا تھا۔ سو اس عقیدہ کی تائید میں کچھ تعجب نہیں ہے کہ بدھ مذہب کی بعض کتابوں میں متیا یعنی مسیحا کا ان کے ملک میں آنا اور اس طرح پر پیشگوئی کا پورا ہو جانا لکھا ہوا ہو ۔ اور اگر یہ فرض بھی کر لیں کہ لکھا ہوا نہیں ہے تب بھی جبکہ بدھ نے خدائے تعالیٰ سے الہام پا کر اپنے شاگردوں کو یہ امید دی تھی کہ بگوا متیا ان کے ملک میں آئے گا ۔ اس بنا پر کوئی بدھ مت والا جو اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتا ہو اس واقعہ سے انکار نہیں کر سکتا کہ وہ بگوا متیا جس کا دوسرا نام مسیحا ہے اس ملک میں آیا تھا کیونکہ پیشگوئی کا باطل ہونا مذہب کو باطل کرتا ہے۔ اور ایسی پیشگوئی جس کی میعاد بھی مقرر تھی اور گوتم بدھ نے بار بار اس پیشگوئی کو اپنے مریدوں کے پاس بیان کیا تھا۔ اگر وہ اپنے وقت پر پوری نہ ہوتی تو بدھ کی جماعت گوتم بدھ کی سچائی کی نسبت شبہ میں پڑ جاتی اور کتابوں میں یہ بات لکھی جاتی کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر ہمیں ایک اور دلیل یہ ملتی ہے کہ تبت میں ساتویں صدی عیسوی کی وہ کتا بیں دستیاب ہوئی ہیں جن میں مشیح کا لفظ موجود ہے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کا نام لکھا ہے اور اس لفظ کو مِی شِی ھو کر کے ادا کیا ہے۔ اور وہ فہرست جس میں مي شي هو پایا گیا ہے اس کا مرتب کرنے والا ایک بدھ مذہب کا آدمی ہے۔ دیکھو کتاب اے ریکارڈ آف دی بدھسٹ ریلیجن مصنفہ آئی سنگ مترجم جی ٹکا کو سو۔ اور جی ٹکا کو سو ایک ہزار و پانچ ہزار سال والی میعاد یں غلط ہیں۔ منہ L 1۔ A Record of the Buddhist Religion by I۔Tsing Translated by Taka Kasu