مسیح ہندوستان میں — Page 74
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۷۴ مسیح ہندوستان میں ۷۲ اپنی سولہ لڑکیوں کو بلایا اور اُن کو کہا کہ تم اپنی خوبصورتی بدھ پر ظاہر کر ولیکن اس سے بھی بدھ کے دل کو تزلزل نہ ہوا اور شیطان اپنے ارادوں میں نامراد رہا اور شیطان نے اور اور طریقے بھی اختیار کئے مگر بدھ کے استقلال کے سامنے اس کی کچھ پیش نہ گئی اور بدھ اعلیٰ سے اعلیٰ مراتب کو طے کرتا گیا اور آخر کار ایک لمبی رات کے بعد یعنی سخت آزمائشوں اور دیر پا امتحانوں کے پیچھے بدھ نے اپنے دشمن یعنی شیطان کو مغلوب کیا اور سچے علم کی روشنی اس پر کھل گئی اور صبح ہوتے ہی یعنی امتحان سے فراغت پاتے ہی اس کو تمام باتوں کا علم ہو گیا اور جس صبح کو یہ بڑی جنگ ختم ہوئی وہ بدھ مذہب کی پیدائش کا دن تھا۔ اُس وقت گوتم کی عمر پینتیس برس کی تھی اور اس وقت اس کو بدھ یعنی نور اور روشنی کا خطاب ملا اور جس درخت کے نیچے وہ اس وقت بیٹھا ہوا تھا وہ درخت نور کے درخت کے نام سے مشہور ہو گیا ۔ اب انجیل کھول کر دیکھو کہ یہ شیطان کا امتحان جس سے بُدھ آزمایا گیا کس قدر حضرت مسیح کے امتحان سے مشابہ ہے یہاں تک کہ امتحان کے وقت میں جو حضرت مسیح کی عمر تھی قریباً وہی بدھ کی عمر تھی اور جیسا کہ بدھ کی کتابوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شیطان در حقیقت انسان کی طرح مجسم ہو کر لوگوں کے دیکھتے ہوئے بدھ کے پاس نہیں آیا بلکہ وہ ایک خاص نظارہ تھا جو بدھ کی آنکھوں تک ہی محدود تھا اور شیطان کی گفتگو شیطانی الہام تھی یعنی شیطان اپنے نظارہ کے ساتھ بدھ کے دل میں یہ القا بھی کرتا تھا کہ یہ طریق چھوڑ دینا چاہیے اور میرے حکم کی پیروی کرنی چاہیے میں تجھے دنیا کی تمام دولتیں دے دوں گا ۔ اسی طرح عیسائی محقق مانتے ہیں کہ شیطان جو حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس آیا تھا وہ بھی اس طرح نہیں آیا تھا کہ یہودیوں کے سامنے انسان کی طرح ان کی گلیوں کوچوں سے ہو کر اپنی مجسم حالت میں گذرتا ہوا حضرت مسیح کو آملا ہو اور انسانوں کی طرح ایسی گفتگو کی ہو کہ حاضرین نے بھی سنی ہو بلکہ یہ ملاقات بھی