مجموعہ آمین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 503 of 615

مجموعہ آمین — Page 503

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۵۰۳ مجموعه آمین تو پھر کیونکر ملے وہ یار جانی کہاں غر بال میں رہتا ہے پانی یہ ملک و مال چھوٹی ہے کہانی کرو کچھ فکر ملک جاودانی غفلت میں جوانی مگر دل میں یہی تم نے ہے ٹھانی زندگانی ہو بسر کرتے خدا کی ایک بھی تم نے نہ مانی ره ذرا سوچو یہی مجھ کو بتا دی خدا نے اپنی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي ہو جائے رحمت دکھاؤ جلد تر صدق کرو تو به که تا کھڑی ہے سر پے مسلمانوں مجھے ہے و انابت ایسی ایک ساعت کہ یاد آ جائے گی جس سے قیامت یہ بات مولی نے بتا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي تب ادبار آیا کہ جب تعلیم قرآں کو بھلایا رسول حق کو مٹی میں سلایا مسیحا کو فلک پر ہے بٹھایا ا یہ تو ہیں کر کے پھل ویسا ہی پایا اہانت نے انہیں کیا کیا دکھایا خدا نے پھر تمہیں اب ہے بلایا کہ سوچو عزت خیر البرايا یہ ره ہمیں فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي خدا نے خود دکھا دی سے کوئی مردوں کیونکر راہ پاوے مرے تب بے گماں مردوں میں جاوے خدا عیسی کو کیوں مردوں سے لاوے وہ کیوں خود مُہرِ ختمِيَّت مٹاوے کہاں آیا کوئی تا وہ بھی آوے کوئی اک نام ہی ہم کو بتاوے تمہیں کس نے یہ تعلیم خطا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي