مجموعہ آمین — Page 127
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۲۷ ☆ تحفہ گولڑویہ کے جیسا کہ سلسلہ موسویہ کے نسبت یہ ماننا ضروری ہے کہ وہ اس اُمت کا خاتم الاولیاء ہے جیسا کہ خلیفوں میں حضرت عیسی خاتم الانبیاء ہے۔ اگر در حقیقت وہی عیسی علیہ السلام ہے جو دوبارہ آنے والا ہے تو اس سے قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ قرآن جیسا کہ گما کے لفظ سے مستنبط ہوتا ہے دونوں سلسلوں کے تمام خلیفوں کو من وجہ مغائر قرار دیتا ہے اور یہ ایک نص قطعی ہے کہ اگر ایک دنیا اس کے مخالف اکٹھی ہو جائے تب بھی وہ اس نص واضح کو رد نہیں کر سکتی کیونکہ جب پہلے سلسلہ کا عین ہی نازل ہو گیا تو وہ مغائرت فوت ہو گئی اور لفظ کما کا مفہوم باطل ہو گیا ۔ پس اس صورت میں تکذیب قرآن شریف لازم ہوئی ۔ و هذا باطل وكلّما يستلزم الباطل فهو باطل ۔ یادر ہے کہ قرآن شریف نے آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ لے میں وہی كَمَا استعمال کیا ہے جو آیت كَمَا أَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا میں۔ میں ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر اہر ہے کہ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہو کر نہیں آئے بلکہ یہ خود موسیٰ بطور تناسخ آگیا ہے یا یہ دعویٰ کرے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعوی صحیح نہیں ہے کہ توریت کی اس پیشگوئی کا میں مصداق ہوں بلکہ اس پیشگوئی کے معنے یہ ہیں کہ خود موسیٰ ہی آجائے گا جو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہے تو کیا اس فضول دعوے کا یہ جواب نہیں دیا جائے گا کہ قرآن شریف میں ہرگز بیان نہیں فرمایا گیا کہ خود موسی آئے گا بلکہ کما کے لفظ سے مثیل موسیٰ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ پس یہی جواب ہماری طرف سے ہے کہ اس جگہ بھی سلسلہ خلفاء محمدی کے لئے گما کا لفظ موجود ہے۔ شیخ محی الدین ابن عربی اپنی کتاب فصوص میں مہدی خاتم الاولیاء کی ایک علامت لکھتے ہیں کہ اس کا خاندان چینی حدود میں سے ہوگا اور اس کی پیدائش میں یہ ندرت ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک لڑکی بطور تو ام پیدا ہو گی یعنی اس طرح پر خدا اناث کا مادہ اس سے الگ کر دے گا۔ سواسی کشف کے مطابق اس عاجز کی ولادت ہوئی ہے اور اسی کشف کے مطابق میرے بزرگ چینی حدود سے پنجاب میں پہنچے ہیں ۔ منہ النور : ۵۶ ۲ المزمل: ۱۶