محمود کی آمین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 494

محمود کی آمین — Page 324

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۲۲ سے بچانا دکھ درد سے محمود کی آمین سن میرے پیارے باری میری دعائیں ساری رحمت سے انکو رکھنا میں تیرے منہ کے واری اپنی پنہ میں رکھیو سن کر یہ میری زاری یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي اے واحد و یگانہ اے خالق زمانہ میری دعائیں سن لے اور عرض چاکرانہ تیرے سپرد تینوں دیں کے قمر بنانا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي فکروں میں دل حزیں ہے جاں درد سے قریب ہے جو صبر کی تھی طاقت اب مجھ میں وہ نہیں ہے ہر غم سے دور رکھنا تو رب عالمیں ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي اقبال کو بڑھانا اب فضل لے کے آنا ہر رنج چھڑانا خود میرے کام کرنا یا رب نہ آزمانا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي یہ تینوں تیرے چاکر ہوویں جہاں کے رہبر یہ ہادی جہاں ہوں یہ ہوویں نور یکسر یہ مرجع شہاں ہوں یہ ہوویں مہر انور یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي اہل وقار ہوویں فخر دیار ہوویں حق پر شار ہوویں مولی کے یار ہوویں با برگ و بار ہوویں اک سے ہزار ہوویں یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي تو ہے جو پالتا ہے ہر دم سنبھالتا ہے غم سے نکالتا ہے دردوں کو ٹالتا ہے کرتا ہے پاک دل کو حق دل میں ڈالتا ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي تو نے سکھایا فرقاں جو ہے مدار ایماں جس سے ملے ہے عرفاں اور دور ہووے شیطاں یہ سب ہے تیرا احساں تجھ پر شار ہو جاں یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي تیرا نبی جو آیا اس نے خدا دکھایا دین قویم لایا بدعات کو مٹایا حق کی طرف بلایا مل کر خدا ملایا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي قرباں ہیں تجھ پہ سارے جو ہیں میرے پیارے احساں ہیں تیرے بھارے گن گن کے ہم تو ہارے